حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 93
حقائق الفرقان ۹۳ سُورَةُ الدَّهْرِ برادران جب بیماری لاحق ہوتی ہے تب پتہ لگتا ہے کہ صحت کیسا انعام تھا۔ اس صحت کے حاصل کرنے کو دیکھو کس قدر مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔ طبیبوں کی خوشامد ، دعا والوں ، تعویز ٹوٹکے والوں کی منتیں ، غرض قسم قسم کے لوگوں کے پاس جن سے کچھ بھی امید ہوسکتی ہے انسان جاتا ہے۔ دواؤں کے خرید کرنے میں کتنا ہی روپیہ خرچ کرنا پڑے بلا دریغ خرچ کرتا ہے۔ ایک آدمی مرنے لگتا ہے تو کہتے ہیں دو باتیں کر ادو خواہ کچھ ہی لے لو۔ حالانکہ اس نے لاکھوں باتیں کیں۔ چونکہ ان لوگوں کو جو احسانات کا مطالعہ نہیں کرتے خبر بھی نہ تھی غرض یہ سب انعامات جو ہم پر ہوتے ہیں ان میں سے اول اور بزرگ ترین انعام وجود کا ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے پس اس سورہ شریفہ میں اول اسی کا ذکر فرمایا۔ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا ۔ انسان پر کچھ زمانہ ایسا بھی گزرا ہے یا نہیں؟ کہ یہ موجود نہ تھا۔ ہے۔ میری حالت کو دیکھو اس وقت میں کھڑا بول رہا ہوں مگر کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ سواسی برس پیشتر میں کہاں تھا؟ اور میرا کیا مذکور تھا۔ کوئی نہیں بتلا سکتا۔ یہ جناب الہی کا فیضان ہے کہ ایک ذراسی چیز سے انسان کو پیدا کیا چنانچہ فرماتا ہے إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمْشَاجِ تَبْتَلِيْهِ ہم نے انسان کو نطفہ سے بنایا۔ نطفہ میں صدہا چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان بنتا ہے۔ عام طور پر ہم لوگ ان کو دیکھ نہیں سکتے ۔ کوئی بڑی اعلیٰ درجہ کی خورد بین ہو تو اس کے ذریعہ سے وہ نظر آتے ہیں۔ پھر بتلایا کہ پہلا انعام تو عطاء وجود تھا پھر یہ انعام کیا فَجَعَلْتُهُ سَمِيعًا بَصِيرًا خدا ہی کا فضل تھا کہ کان دیئے ، آنکھیں دیں اور سنتا دیکھتا بنا دیا۔ سارے کمالات اور علوم کا پتہ کان سے لگ سکتا ہے یا نظارہ قدرت کو دیکھ کر انسان با خبر ہو سکتا ہے۔ یہ عظیم الشان عطیے بھی کس کی جناب سے ملے ؟ مولیٰ کریم ہی کی حضور سے ملے ۔ آنکھیں ہیں تو نظارہ قدرت کو دیکھتی ہیں۔ خدا کے پاک بندوں اس کے پاک صحیفوں کو دیکھ کر حظ اٹھائیں ۔ کان کے عطیہ کے ساتھ زبان کا عطیہ بھی آگیا کیونکہ کان اگر نہ ہوں تو زبان پہلے چھن جاتی ہے۔ اب اگر ان