حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 89
حقائق الفرقان ۸۹ سُوْرَةُ الْمُؤْمِنِ -١٠- وَقِهِمُ السَّيَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّيَاتِ يَوْمَبِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ وَ ذَلِكَ هُوَ دردو الْفَوْزُ الْعَظِيم۔ترجمہ۔اور ان کو بچا بُرائیوں سے اور جس کو بچایا تو نے آج برائیوں سے تو بے شک تو نے اس پر بڑی مہربانی فرمائی اور یہی تو بڑی کامیابی ہے۔تفسیر - الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - فوز بمعنے پاس ہونا۔- ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۸) 11 - إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنَادَونَ لَمَقْتُ اللهِ أَكْبَرُ مِنْ مَفْتِكُمُ انْفُسَكُمْ إِذْ تدُعَونَ إِلَى الْإِيمَانِ فَتَكْفُرُونَ - ترجمہ۔جولوگ منکر ہیں اُن سے بآواز بلند کہہ دیا جائے گا کہ اللہ کی خفگی اس سے بڑھ کر ہے جو تم اپنی جانوں سے خفا ہو جب کہ تم بلائے جاتے تھے ایمان کی طرف تو تم حق پوشی کرتے تھے اور انکار۔تفسیر۔اگر کوئی شخص اپنی چھوٹی سی غرض کیلئے کسی اپنے بڑے محسن و مربی کو ناراض کرتا ہے تو وہ فطرت کے تقاضا کے خلاف کرتا ہے۔پس اللہ سے بڑھ کر کون محسن و مربی ہے کیونکہ دنیا کے عارضی محسنوں کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔ایسے علیم و حکیم کی بات کو اگر نہ مانا جاوے تو دنیا و آخرت میں دکھ کا موجب ہے۔لَمَقْتُ اللہ۔اللہ کی ناراضی یا اللہ کی لعنت۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۸) ۱۲۔قَالُوا رَبَّنَا آمَتَنَا اثْنَتَيْنِ وَ اَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَهَلْ إلى خُرُوجٍ مِّنْ سَبِيلٍ - ترجمہ۔وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو ہم کو موت دے چکا دو بار اور چلا چکا دو بار اب ہم قائل ہوئے اپنے گناہوں کے۔پھر اب بھی کوئی نکلنے کی راہ ہے (جہنم سے )۔