حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 82
حقائق الفرقان ۸۲ سُوْرَةُ الزُّمَرِ تفسیر - وَانبُوا۔یہ اس يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر:۵۴) کیلئے بطور شرط ہے۔اللہ کی طرف۔جھکو۔اسلموالہ۔اس جھکنے کا نشان یہ ہے کہ اس کی فرماں برداری کرو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۷) ۵۶ - وَ اتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُم مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ - ترجمہ۔اور پیروی کر بہتر بات کی جو اتاری گئی تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اس سے پہلے کہ تم پر عذاب نازل ہو یکا یک اور تم بے خبر ہی ہو۔تفسیر۔اَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ۔مثال کے لئے سنو! دو حکم ہیں کہ کسی کی ایذارسانی کا بدلہ لے لو۔دوسرا یہ کہ چشم پوشی کرو۔اب یہ عفو احْسَنَ مَا اُنْزِلَ ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یہ صفت کا شفہ ہے یعنی جو کچھ رب نے اتارا ہے وہ احسن ہی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ /نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۷) احْسَنَ مَا انْزِلَ الیکم۔مثلاً بدلہ لینا بھی جائز ہے۔اور صبر اور غفر بھی۔اب یہ صبر اور معافی دے دینا بہتر ہے۔اور یہ طریق صلحاء ہے۔( تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۹) ۵۸،۵۷ - اَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يُحَسْرَى عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللهِ وَإِنْ كُنتُ لمِنَ الشَّخِرِينَ اَوْ تَقُولُ لَوْ أَنَّ اللهَ هَد ينِي لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ترجمہ۔کہیں کوئی جی کہنے لگے ( کہ ہمیں خبر ہی نہ ہوئی ) اور اے افسوس میری اس کو تا ہی پر جو میں نے اللہ کے حق میں کی اور میں تو بس ہنسی ہی کرتا رہا۔یا کہنے لگے کہ اگر اللہ مجھے کو ہدایت دیتا تو میں ضرور متقیوں میں سے ہو جاتا۔تفسیر - فقطت۔تفریط کے معنے کمی کرنے کے ہیں۔لين الشخِرینَ۔آجکل ایسے لوگ بہت ہیں جو مذ ہبی امور کو تمسخر میں اڑاتے رہتے ہیں۔مِنَ الْمُتَّقِينَ۔دکھوں سے بچنے والے ہوتے۔دراصل تمام دکھوں کا اصل بدصحبت ہے اس (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۷) سے بچو۔