حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 80
حقائق الفرقان ۸۰ سُورَةُ الزُّمَرِ دعائیں کرتے کہ البہی اس زمانہ میں کون شخص تیرا مامور ہے تو میں یقین نہیں کر سکتا کہ انہیں خدا تعالیٰ ضائع کرتا۔ میں کبھی کسی مسئلہ و اختلاف سے نہیں گھبرایا کہ میرے پاس دعا کا ہتھیار موجود ہے اور وہ دعا یہ ہے - اللهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ عَلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيْهِ يَخْتَلِفُونَ (الزمر : ۴۷) اور حدیث اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ سچا تقویٰ حاصل کرنے کیلئے بھی دعا ہی ایک عمدہ راہ ہے۔ پھر قرآن کریم کا مطالعہ۔ اس میں متقیوں کے صفات اور راست بازوں کے صفات موجود ہیں۔ اللہ تعالی عمل کی توفیق بخشے۔ فہم و فراست بخشے۔ ( بدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ جنوری ۱۹۰۸ ءصفحہ ۱۰) ۴۹ - وَ بَدَا لَهُمْ سَيِّاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ ۔ ترجمہ ۔ اور ان کو نظر آجائیں گی ان کی کرتوتوں کی برائیاں اور انہیں پر الٹ پڑے گا وہ جس کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے۔ لد تفسير يَسْتَهْزِءُونَ ھز و سے نکلا ہے۔ کسی کو خفیف بنانا اور مجھنا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۷) ۵۰ - فَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ ضُرَّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْتُهُ نِعْمَةً مِنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ - ترجمہ۔ جب آتی ہے انسان پر کوئی مصیبت تو وہ ہم کو پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس کو عطا فرماتے ہیں نعمت اپنی طرف سے تو وہ کہنے لگتا ہے یہ تو مجھ کو علم اور تجربہ کے زور سے ملتا ہے۔ کچھ نہیں یہ تو آزمائش ہے لیکن بہت سے آدمی جانتے ہی نہیں ۔ تفسیر - خولہ ۔ ہم عطا کرتے ہیں۔ (ضمیمہ اخبار بدر ادیان جلد نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۷ - ۱۰ اے اے میرے اللہ ! اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے اور بڑے جاننے والے چھپے اور کھلے کے ! تو ہی فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں میں اس کا جس میں اختلاف کر رہے تھے۔ ۲ تو اپنے اذن سے اس حق کی طرف جس میں اختلاف کیا گیا ہے میری راہنمائی فرما۔ یقیناً تو جس کے لئے چاہتا ہے اس کی سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔