حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 75
حقائق الفرقان ۷۵ سُوْرَةُ الزُّمَرِ ٣ - إِنَّكَ مَيِّتٌ وَ إِنَّهُم مَّيِّتُونَ۔ترجمہ۔کچھ شک نہیں کہ تجھے بھی مرنا ہے اور وہ بھی مرنے والے ہی ہیں۔إنَّكَ مَيِّت۔موت تو بے شک تجھ پر آنے والی ہے لکن اِنَّالَهُ لَحَافِظُونَ خدا تعالیٰ اس کتاب اور دینِ اسلام کا محافظ ہوگا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۶) ٣٣ - فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ الَيسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوَى تِلْكَفِرِينَ ترجمہ۔اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بولا اور عمدہ بات کو جھٹلا یا جب کبھی وہ ایس کے پاس آئی۔کیا کا فروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟ تفسیر۔تمہید: - قرآن کریم کی تعلیم سے واضح ہے کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ سب سے بڑھ کر بدکار ہیں۔خدا تعالیٰ ان کا بیان ذکر کرتا ہے۔ا۔وہ جو اللہ پر افتراء کرے۔الہام۔وحی و خواب نہ ہو۔اور کہے کہ مجھے ہوا ہے یا جھوٹی حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کرے۔قرآن شریف کی کسی آیت کے معنے سچائی کیلئے نہیں بلکہ اپنے مطلب کیلئے شرارت سے کچھ اور کر لے۔۲۔وہ جو صادق کی تکذیب کرتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ /نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۷) كَذَبَ عَلَى اللهِ۔خواب، کشف، الہام ، وحی۔قرآن کی آیت یا حدیث جھوٹی پڑھ دے یا جان بوجھ کر معنی غلط کر دے۔b تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۹) -۳۵ - لَهُمْ مَّا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ذَلِكَ جَزْوُا الْمُحْسِنِينَ ترجمہ۔اُن کے لئے ہے جو کچھ وہ چاہیں ان کے ربّ کے پاس۔یہ ہے بدلہ محسنوں کا۔تفسیر - لَهُمُ مَا يَشَاءُونَ۔انکی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ہوگا۔الْمُحْسِنِينَ۔یہ بات پیچھے نہیں رہ گئی بلکہ آئندہ بھی ہرمحسن کے ساتھ ایسا ہی نیک سلوک (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۴ مورخه ۲۴ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۷)