حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 65
حقائق الفرقان سُورَةُ صَ ایک وقت آتا ہے کہ انسان نیکی کرتا کرتا ایسے مقام تک پہونچ جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے۔پھر انسان بدی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہونچ جاتا ہے کہ خدا اس کی ہدایت سے ہاتھ کھینچتا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۶) إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ - ترجمہ۔معلوم وقت تک۔تفسیر۔قیامت تک نہیں۔تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۷۸) ۸۷ - قُلْ مَا اسْلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ۔ترجمہ۔تو کہہ دے میں اس بات پر تجھ سے کچھ نہیں مانگتا اجرت اور نہ میں تکلیف کرنے والوں میں سے ہوں۔تفسیر۔نبی کے ہر ایک قول وفعل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بناوٹ اس میں بالکل نہیں۔اس کی کوئی بات بناوٹ سے نہیں ہوتی۔اور نہ اس کا کوئی فعل تکلف سے ہوتا ہے اور نہ وہ خلقت کو نصیحت دنیوی فائدہ اٹھانے کی امید یا نیت پر کرتے ہیں۔بلکہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا اجر اللہ پر ہے۔چنانچہ سیدنا ومولانا حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کوقرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو سنادے۔مَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلفِينَ۔اسی معیار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ملتا ہے۔آپ اپنے بارے میں لکھتے ہیں۔ابتداء سے گوشئہ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار اور آپ میں تکلف اور بناوٹ نام کو نہ تھی۔اس کی شہادت ہزاروں آدمی دے سکتے ہیں۔نہ تقریر میں کوئی بناوٹ تھی نہ تحریر میں ، نہ لباس میں۔اور ان آجری إِلَّا عَلَى اللهِ (هود:۳۰) پر جو عمل فرما یا وہ تو اب بھی ظاہر ہے کیونکہ خاص اپنے لئے باوجود اس قدر روپے کے آنے کے کوئی جائیداد نہیں خریدی