حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 64
حقائق الفرقان ۶۴ سُوْرَةُ صَ اسی طرح نبی کریم صلم فرماتے ہیں۔مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَا الْأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ۔مجھے کیا علم تھا کہ ملاء اعلیٰ میں میری نبوت کی نسبت کیا مباحثات ہورہے ہیں جیسا کہ ہر مامور کی بعثت پر آسمانوں میں بڑی بحث ہوتی ہے۔تشخیذ الاذہان جلدے نمبر ۲۔ماہ فروری ۱۹۱۲ ء صفحہ ۸۸) مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ - انبیاء کے دل میں ذرا بھر بھی خواہش نہیں ہوتی کہ ہم نبی بنیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ صفحه ۲۱۵) ۲ - اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ طِينٍ - ترجمہ۔اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے میں بنانے والا ہوں ایک آدمی مٹی سے۔تفسیر - خالق بشرا۔ہر ایک روحانی آدمی کے متعلق یہ ذکر ہے۔تشخید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۸) طنین۔کیچڑ۔پانی اور مٹی ملی ہوتی ہے۔طین میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس کو جس سانچہ میں ڈھالنا چاہیں ڈھل جاتی ہے۔اور ہر شکل کو قبول کر لیتی ہے۔جو آدم کا بچہ ہے وہ توطین سے بناہوا ہوتا ہے۔ایک جگہ فرمایا ہے۔من تراب۔(آل عمران : ۶۰) یعنی مٹی سے بنایا۔اور ایک جگہ فرمایا ہے۔من ماء ( فرقان: ۵۵) تم کو پانی سے بنایا۔اس لئے مٹی اور پانی مل کر کیچڑ ہی ہوئے۔حضرت مسیح بھی فرماتے ہیں کہ میں طین سے تجویز کرتا ہوں۔اگر تم میں کوئی طائر کی صفت ہو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۱۷ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۶،۲۱۵) ۷۳- فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ - ترجمہ۔پس جب میں اس کو بنا چکوں اور اس میں اپنی وحی پھونکوں تو تم اس کے فرمانبردار ہو جانا۔تفسیر۔فَإِذَا سَويْتُه۔جب اپنے کمال کو پہونچ جاؤ۔جس قدر پاک روھیں ہوتی ہیں۔سب فرماں بردار ہوتی ہیں۔جس طرح وہ طین سے بنا۔اسی طرح شیطان آگ سے بنا۔سانپ اور طاعون کے کیڑے کو شیطان اور جن اسی وجہ سے کہا گیا۔