حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 59
حقائق الفرقان ۵۹ سُورَةُ صَ کامیابی اور شاد کامی کو ہمراہ لئے ہوتی تھی۔اور جیسا کہ آجکل یورپ کے سٹیمر باوجود قسم قسم کے بچاؤ کی تدابیر کے آئے دن سمندر کی خونخوار موجوں کے لقمہ تر بنتے ہیں۔حضرت سلیمان کو اس کے خلاف کبھی تباہی پیش نہیں آئی۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۰۸) ۴۲۔وَاذْكُرُ عَبْدَنَا أَيُّوبَ إِذْ نَادَى رَبَّةٌ أَنِّي مَسَّنِيَ الشَّيْطَنُ بِنُصْبٍ وَعَذَابٍ - ترجمہ۔اور ہمارے بندے ایوب کا بھی بیان کر کہ جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے سخت شدت کے ساتھ پیاس لگی ہے۔تفسیر۔تین علم عبرت کیلئے لوگوں نے تصنیف کئے ہیں ان میں سے ایک علم تاریخ ہے۔اس علم تاریخ کے لکھنے میں بھی مسلمانوں نے سب سے زیادہ کوشش کی ہے۔مسلمانوں اور عیسائیوں کی علم تاریخ میں یہ فرق ہے کہ عیسائی کسی واقعہ کو دیکھ کر اس کا سبب بھی خود تلاش کرتے ہیں حالانکہ ضرور نہیں کہ وہ اصل سبب اس واقعہ کا ہو۔دوسرا نقص یہ ہے کہ وہ اپنے ملک پر سب کا قیاس کر لیتے ہیں حالانکہ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ مبالغہ ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں یہ زیادہ ہے۔اب وہاں بھی یہ نقص عام پیدا ہوا ہے کہ ناول کو بھی اصل واقعہ سمجھتے ہیں۔ہمارے مؤرخین زیادہ تر شیعہ ہیں۔شیعوں میں تقیہ جائز ہے۔پھر اس تقیہ کی ان کو خوب مشق ہے اور تبرے کے یہ اب تک شروع سے عادی ہیں۔تبرے بازی کی انکل سیکھنی ہو تو ان سے سیکھے۔وقائع نعمت خان کو دیکھو جس کا نمک کھایا ہے اسی کے حق میں کہیں گالیاں ہیں۔خافی خان تو ہنساتا بھی جاتا ہے۔اور تبر ابھی۔مؤرخ جب شیعہ ہوتا ہے۔تو وہ سنیوں کی خوب خبر لیتا ہے۔تاریخوں میں بڑے عبرت کے مقام ہوتے ہیں۔سینکڑوں جلد میں مطالعہ کر جاؤ۔بعض اوقات سمجھنے میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔دوسرا حصہ جو بہت نیک حصہ تھا۔میں نے علم حدیث میں حَدَّثَنَا مَالِكُ حَدَّثَنَا فُلان وغیرہ پڑھا۔ہمارے یہاں بہت سے شخصوں نے اس کو چھوڑ کر عَنْ رَسُولِ اللہ پڑھانا شروع کر دیا۔اس سے مدعا یہ تھا کہ ان راویوں کی پرہیز گاری اور تقویٰ اور پاک نمونوں کی اتباع ہو جو اس سلسلہ اسناد میں بیان کئے جائیں لیکن ہمارے ملک میں اس قدر نہ استادوں