حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 58
حقائق الفرقان ۵۸ سُوْرَةُ صَ مجھے ایسا ملک عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نہ پہنچے، کچھ شک نہیں کہ تو بہت ہی دینے والا ہے۔تفسیر۔ان کی کرسی پر وہ شخص قائم ہوا جس میں دینداری کی روح نہ تھی۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۱۰،۳ نومبر ۱۹۱۰ ء صفحه ۲۱۴) الْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيهِ جَسَد اثم آنابَ - آیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ آپ کا بیٹا نالائق تھا۔هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي رِحَدٍ مِنْ بَعْدِی سے مرا در ضا وقرب البہی کا مقام ہے۔تشخیذ الاذہان جلدے نمبر ۲۔ماہ فروری ۱۹۱۲ء صفحہ ۸۷) لا يَنبَغِي لِحَدٍ مِنْ بَعْدِى : اپنے تقرب کا ملک دو۔جو دوسرے کی وراثت میں نہیں آتا انسان اپنے آپ میں ترقی کرے تو بڑی بات ہے۔( تشخیز الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ صفحه ۴۷۸) ۳۷ ۳۸ - فَسَخَرُنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِأَمْرِهِ رُخَاءَ حَيْثُ أَصَابَ وَالشَّيطِيْنَ كُل بَناءِ وَغَوَاصٍ - ترجمہ۔پھر ہم نے اس کے تابع کر دی قوت اور اقبال کی ہوا کہ وہ اس کے حکم سے جہاں چاہتا نرم نرم اور آہستہ چلتی۔اور شیاطین کو تابع کر دیا عمارتیں بنانے والے غوطہ لگانے والے۔تفسیر۔وَالشَّيطِینَ۔دُور کا غوطہ لگانے والوں کو کہتے ہیں۔شریر آدمی قید بھی ہو سکتے ہیں اور ہنر ور بھی۔( تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۷۸) پس مفت کام میں لگادی سلیمان کے ہوا۔نرم چلتی اس کے (اللہ کے حکم سے جہاں پہنچنا چاہتا۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۱۵۵ حاشیه ) قرآن کریم میں حضرت سلیمان کے قصہ میں یہ الفاظ کس قدر وضاحت سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کا سفر بادی جہازوں کے ذریعہ ہوتا تھا چنا نچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فَسَخَرُنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِى بِاَمرِهِ (ص:۳۷) ہم نے ہوا کو اس کے کام میں لگایا۔وہ اس کے حالات اور مقاصد کے موافق چلتی تھی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے جہازوں کے سفر میں باد موافق چلا کرتی تھی۔اور اس کے سفر