حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 57
حقائق الفرقان ۵۷ سُورَةُ صَ دکھ کا موجب ہوتی ہیں۔جیسے عشق۔مگر میری یہ جب جوان گھوڑوں سے ہے یہ پسندیدہ حب ہے کیوں کہ ان سے میں اپنے مولیٰ کو یاد کرتا ہوں حدیث شریف میں آیا ہے الْخَيْلُ مَعْقُوْدْ فِي نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ آپ خدا تعالیٰ کے فضل و احسان بیان کرنے میں مشغول رہے اتنے میں گھوڑے سامنے سے گزر گئے ( توارَتْ بِالْحِجَابِ ) آپ نے فرمایا انہیں پھر واپس لاؤ۔جب پھر گزرنے لگے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیر نے لگے۔گھوڑوں کو پیار کرنے کا یہی طریق ہے۔اگر مسیح کے معنے تلوار مارنے ہی کے ہوں۔تو پھر سب سے پہلے وضو کرنے والے ہی اپنی گردن کاٹ لیا کریں۔تشخیذ الا ذہان جلد ۷ نمبر ۲۔ماہ فروری ۱۹۱۲ صفحہ ۸۷) جب ان کے سامنے پچھلے پہر گھوڑے پیش کے گئے تو انہوں نے وعظ فرمایا کہ مجھ کو گھوڑوں کی محبت خدا کیلئے ہے۔یہاں تک کہ سوار ان کو جو پھیر رہے تھے وہ اتنی دور لے گئے کہ نظروں سے غائب ہو گئے۔آپ نے حکم دیا کہ لوٹاؤ۔ان گھوڑوں کو تھپکی دیتے تھے فَطَفِقَ مَسحا کے یہ معنے (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱، ۲ مورخه ۳، ۱۰/ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۴) عَنْ ذِکرِ ربّی۔اللہ کیلئے جہاد کا سامان ہونے کی وجہ سے گھوڑوں سے پیار کرتے ہیں۔تَوَارَتْ بِالْحِجَاب - معائنہ ہو رہا تھا سوار آگے نکل گئے۔فرمایا۔واپس لاؤ۔فَطَفِقَ مَسْعًا۔جو لوگ اس کے معنے تلوار کرتے ہیں وہ وضو میں وَامْسَحُوا بِرُءُ وسلم کی آیت کی تعمیل بھی اسی طرح کریں کہ اپنے سر پر تلوار چلالیا کریں۔تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۸) ۳۵ ، ۳۶ - وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَنَ وَ الْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيّهِ جَسَدًا ثُمَّ انابَ - قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِى إِنَّكَ انْتَ الْوَهَّابُ - ترجمہ۔اور بے شک ہم نے سلیمان کو آزمایا اور اس کی کرسی پر ایک جسم ڈال دیا۔اس واسطے سلیمان ہماری طرف رجوع ہوا۔اور دعا کی اے میرے ربّ! مجھے پناہ دے، میری حفاظت کر اور گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر باندھ دی گئی ہے۔