حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 54
حقائق الفرقان ۵۴ سُوْرَةُ صَ ملانے کو۔اور بہت سے ساتھی ایسے ہی ہوتے ہیں کہ بعض پر بعض زیادتی کرتے رہتے ہیں مگر ہاں جنہوں نے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے (وہ ایسا نہیں کرتے ) اور ایسے تو تھوڑے ہی ہیں اور داؤد نے خیال کیا کہ ہم نے اُس کو آزمایا ہے تو اُس نے حفاظت مانگی اپنے رب سے اور وہ تو بہ کرتا ہوا سجدہ میں گر پڑا۔تفسیر۔سورۃ ص میں چند آیات کے معانی نہ سمجھنے کی وجہ سے حضرت داؤڈ پر تہمت لگادی ہے کہ انہوں نے ایک بی بی کے خاوند کو جنگ میں بھجوا کر مروادیا اور اسکی بی بی سے خود نکاح کر لیا۔اور فرشتے انہیں سمجھانے آئے حالانکہ یہ بات ہے کہ وہ ملائکہ نہ تھے بلکہ دشمن تھے کہ دیوار میں پھاند کر آپ کے مکان میں گھس آئے آپ بہت گھبرائے کہ ملک میں انار کسٹوں کا غلبہ ہے اور وہ یہاں تک دلیر ہو گئے ہیں کہ شاہی خیموں میں کو دکر آنے میں تامل نہیں کرتے۔مگر معا شاہی رعب ان پر غالب آیا اور انہوں نے ایک جھوٹی بات بنالی۔آپ نے نہایت متانت سے انہیں جواب دیا اور ظَنَ دَاوُدُ انْمَا فَتَتْهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہ کے یہ معنی ہیں کہ جب داؤد نے یقین کیا کہ رعایا میں بغاوت اور بدامنی کا زور ہے تو سمجھا کہ آخر کوئی کمزوری اور نقص ہے جس کی وجہ سے حکومت کے رعب و جلال میں فرق آ رہا ہے۔اس لئے خدا سے حفاظت طلب کی۔اور خدا کے حضور گر پڑے تو خدا نے آپ کی حفاظت کی اور اپنے تسلی بخش کلام سے ممتاز فرمایا۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ خلیفہ تو ہم نے تجھے بنایا۔ان لوگوں کی شرارتوں کا کیا خوف اور کیوں پریشان ہوتے ہو؟ تم حق حق فیصلہ کرتے جاؤ اور عدل و انصاف پر قائم رہو۔تمہاری ہی فتح ہوگی۔( تفخیذ الا ذبان جلد نمبر ۲۔ماہ فروری ۱۹۱۲ء صفحه ۸۶، ۸۷) اِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا۔افسوس مفسرین پر جنہوں نے حضرت داؤد کے بارے میں قصے لکھے۔حالا نکہ اللہ فرماتا ہے۔انبیاء تو کجا مومن بھی دوسرے کے حق پر حملہ نہیں کرتے۔انا فتنہ۔یعنی ضرور مملکت میں کچھ نقص ہے جو دشمن کو جرات ہوئی۔تشخید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۸)