حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 53
حقائق الفرقان ۵۳ سُورَةُ صَ ۲۳ - اِذْ دَخَلُوا عَلَى دَاوُدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوا لَا تَخَفْ خَصْمِن بَغَى بَعْضًا عَلَى بَعْضٍ فَاحْكُمُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ الصِّرَاطِ - ترجمہ۔اور وہ داؤد کے پاس اندر پہنچے تو وہ چوکس ہو گیا ان سے۔انہوں نے کہا آپ کیوں گھبراتے ہیں کیوں چوکنا ہوتے ہیں ہم تو دو دشمن ہیں زیادتی کرتے ہیں ہم ایک دوسرے پر تو آپ حق حق فیصلہ کر دیجیئے اور تاخیر نہ ڈالئے اور ہمیں سیدھا راستہ بتا دیجیئے۔تفسیر - إِذْ دَخَلُوا۔ایک دفعہ دشمن حضرت داؤد پر اچانک کود پڑے۔یہ بھی مستعد بیٹھے تھے۔جب ان دشمنوں نے دیکھا کہ یہ مستعد بیٹھے ہیں۔تو کہنے لگے کہ حضور ہم ایک مقدمہ فیصل کرانے آئے ہیں۔گھبرا کے کہتے ہیں کہ آج ہی فیصل کردیجئے۔تاریخ کو بڑھائے نہیں۔جھگڑا یہ ہے کہ اسکی سود نبیاں ہیں۔دیکھو کیسا جھوٹا مقدمہ بنالیا۔لیکن انبیاء کیسے رحیم وکریم ہوتے ہیں۔فرماتے ہیں کہ اس نے ظلم کیا ہے کہ تمہاری ایک دنبی کو مانگتا ہے۔باوجودیکہ اس کے پاس ہیں۔اب حضرت داؤد د کوفکر ہوا کہ ہمارے ملک میں بڑا فتنہ ہے۔یہاں تک کہ لوگ ہم پر بھی حملہ آور ہونے لگے۔تب انہوں نے جناب الہی میں دعا کی۔ہم نے حکم دیا کہ داؤ د تو کوئی اپنی کوششوں سے خلیفہ ہوا ؟ ہم نے تجھ کو خلیفہ بنایا۔اس سے بڑی نصیحت یہ نکلتی ہے کہ حوصلہ کرو اور دشمن کو حوالۂ بخدا کرو۔دعائیں مانگو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳، ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۴) قَالُوا لَا تَخَفْ۔جب جاگتا پایا تو ان دشمنوں نے جو بارادہ قتل آئے تھے ایک بات تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۷۸) ۲۵ - قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ ليبغى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصلحتِ وَقَلِيلٌ قَاهُم گھڑ لی۔وَظَنَّ دَاوُدُ أَنَّمَا فَتَتْهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرِّ رَاكِعَاوَ أَنَابَ - ووط ترجمہ۔داؤد نے فرمایا کہ بے شک اس نے تجھ پر ظلم کیا ہے وہ جو دنبی مانگتا ہے اپنی دنبیوں میں