حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 44 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 44

حقائق الفرقان ۴۴ سُورَةُ الصَّفت ہوئی کشتی کی طرف چلا گیا۔تو انہوں نے قرعہ اندازی کی تو وہ دریا میں پھینکا گیا۔پھر مچھلی نے اس کا لقمہ کر لیا اور وہ (اپنے آپ پر ) ملامت کرنے لگا۔تو وہ اگر تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔تفسیر۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ یہ یونس کا معراج ہے۔نینوا ایک شہر تھا۔ایک لاکھ بیس ہزار اس کی آبادی تھی۔وہ دارالسلطنت تھا۔حضرت یونس وہاں بھیجے گئے۔آپ نے وعظ کیا۔لوگوں نے ممانعت کی تو حضرت یونس نے کہا کہ تم پر عذاب آوے گا۔جب وہ دن آئے تو ایسی کچھ بات نکلی کہ ان کے دل میں خدا کی صفت رحمانیت کا جوش آ گیا تو وہ سمجھے۔ممکن ہے۔اللہ تعالیٰ عذاب ٹال دے۔اس لئے وہ علیحدہ ہو گئے۔ادھر لوگوں نے عذاب کے نشان دیکھتے ہی تضرع وزاری شروع کر دی اور وہ عذاب ٹال دیا گیا۔جب حضرت یونس نے سنا کہ عذاب نہیں آیا تو وہ لوگوں سے بھاگے کہ خواہ مخواہ خدائے کریم کی مصالح و غریب نوازیوں سے ناواقف لوگ اعتراض کریں گے۔ابق۔جو غلام بغیر رضا مندی اپنے آقا کے نکل جاوے۔اسے ابق کہتے ہیں۔فَسَاهَمَ۔قرعہ کس طرح ڈالا۔یہ میں نے قرآن وحدیث میں نہیں پڑھا۔فَالْتَقَمَةُ الْحُوتُ - حدیثوں سے تو نہیں مگر تفاسیر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی ایڑی کو مونھ میں لیا۔مِنَ الْمُسَيْحِينَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّلِمِينَ (الانبياء : (۸۸) दु کہنے والے۔تیرنے والوں سے بھی معنے کئے گئے ہیں مگر میں ان معنوں کی جرات نہیں کر سکتا۔کیونکہ دوسرے موقع پر اس کی تصریح میں فرما دیا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا انْتَ سُبْحَنَكَ پڑھتے تھے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۰ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۳، ۱۰ نومبر ۱۹۱۰ء صفحه ۲۱۳) ۱۴۷ - وَانْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّنْ يَقْطِينِ - ترجمہ۔اور اس کے لئے تربوز یا لکڑی وغیرہ کی بیل اُگا دی۔لے کوئی سچا معبود نہیں تیرے سوا۔تیری پاک ذات بے عیب ہے میں ہوں کمزور مصیبتوں میں پھنسا ہوا۔