حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 447
حقائق الفرقان ۴۴۷ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ کے ۲۳ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا۔و تین۔وہ رگ ہے جو قلب سے سر کو جاتی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۱۱ مورخه ۱۵ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۸۶) باری تعالی بڑا ثبوت آنحضرت کی نبوت کی صداقت کا دیتا ہے۔وَ لَوْ تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ لے الْأَقَاوِيْلِ لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔یعنی اگر یہ شخص جھوٹا رسول ہوتا۔تو بیشک بیشک قتل کیا جاتا ، تباہ ہو جاتا ، مارا جاتا۔کیونکہ خداوند خدا پہلے سے اپنے برگزیدہ نبی موسی کی معرفت اپنے اس اولوالعزم نبی کی بابت ارشاد اور وعدہ فرما چکا تھا۔اور اس سچے نبی کی صداقت نبوت کی پہچان بھی بتا چکا تھا کہ وہ زندہ رہے گا۔ہاں وہ سلامت رہے گا۔اور اس کے مخالفین معبودانِ باطل کے عابد ہلاک ہو جاویں گے۔(فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۵۲) میرے سامنے بعض نادانوں نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ مفتری کے لئے مہلت مل جاتی ہے۔قطع نظر اس بات کے کہ ان کے ایسے بیہودہ دعوی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت پر کس قدر حرف آتا ہے۔قطع نظر اس کے ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں ہوتا کہ قرآن کریم کی پاک تعلیم پر اس قسم کے اعتراف سے کیا حرف آتا ہے۔اور کیونکر انبیاء ورسل کے پاک سلسلہ پر سے امان اٹھ جاتا ہے۔پوچھتا ہوں کہ کوئی ہمیں بتائے کہ آدم سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک اور آپ سے لے کر اس وقت تک کیا کوئی ایسا مفتری گزرا ہے جس نے یہ دعوی کیا ہو کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔اور وہ کلام جس کی بابت اس نے دعوی کیا ہو کہ خدا کا کلام ہے۔اس نے شائع کیا ہو اور پھر اسے مہلت ملی ہو۔قرآن شریف میں ایسے مفتری کا تذکرہ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک اقوال میں پاک لوگوں کے بیان میں اگر ہوا ہے تو دکھاؤ کہ اس نے تقول عَلَی اللہ کیا ہو اور بچ گیا ہو۔میں دعوی سے کہتا ہوں کہ وہ ایک مفتری بھی پیش نہ کر سکیں گے۔مہلت کا زمانہ میرے نزدیک وہ ہے جبکہ مکہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اگر یہ رسول ہماری نسبت جھوٹی باتیں بناتا تو ضرور ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑتے پھر اس کی رگ حیات کو کاٹ ڈالتے۔