حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 437
حقائق الفرقان ۴۳۷ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ صفات اس طرح متجلی ہو رہے ہیں کہ کوئی بینا ان میں شک نہیں کرتا اور یہ چار صفات انقراض ایام دنیا تک رہیں گی۔پھر ان کے نیچے چار اور صفات جلوہ گر ہوں گی جن کی شان میں سے ہے کہ وہ صفات ظاہر نہیں ہوتیں مگر دوسرے عالم میں جو عرش النبی کا پہلا مطلع ہے اور وجود غیر اللہ سے آلودہ نہیں ہوا اور انوار رب العالمین کا مظہر تام ہے۔اور عرشِ الہی کے چار پائے اس کی ربوبیت و رحما نیت و رحیمیت اور مالکیت یوم الدین ہیں اور ان چاروں کا جامع بروجہ طلیت عرش الہی اور انسانِ کامل کا دل ہے۔یہ چار صفات ساری صفات الہبی کے امہات و اصول ہیں۔اور عرشِ الہی کے پایوں کی طرح واقع ہوئے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کا استواء ہے۔اور لفظ استوی میں اس اتم و اکمل عکس الہی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور پایہ عرش ایک فرشتے کی طرف منتہی ہوتا ہے جو اس کا حامل اس کا مد بر اور اس کا مور دتجلیات ہے اور اس صفت کو وہ اہل آسمان واہل زمین پر تقسیم کرتا ہے۔پس یہ معنے ہیں کلام الہی کے۔جو اس نے فرمایا ہے۔وَيَخْلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَبِذٍ ثنية کیونکہ ملائکہ ان صفات کے حامل ہیں جن میں حقیقت عرشِ الہی ہے۔اور سر اس بات کا یہ ہے کہ وہ عرش کوئی چیز دنیا کی چیزوں میں سے نہیں ہے بلکہ وہ دنیا اور آخرت کے درمیان ایک برزخ ہے۔اور وہ مبدء قدیم ہے واسطے تجلیات ربانیہ ورحمانیہ و رحیمیہ و مالکیہ کے واسطے ظاہر کرنے تفضلات اور کامل کرنے جزا ودین کے۔اور یہ بات صفات النبی میں داخل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قدیم سے صاحب عرش ہے اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔خوب سوچ کرو اور حقیقت عرش اور استوی اللہ تعالیٰ کے اسرار میں سے ایک عظیم الشان سر ہے اور بلیغ حکمت اور روحانی معنے ہیں۔اور عرش اس لئے نام رکھا گیا کہ اس عالم کے عقول کو سمجھایا جاوے اور ان کے منہمی استعدادوں کے نزدیک اس امر کو قریب کیا جائے۔اور یہ واسطہ و ذریعہ ہے۔وصول فیض الہبی اور تجلی ءِ رحمانی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملائکہ کی طرف اور ملائکہ کی طرف سے رسولوں کی طرف۔اور وحدت الہی میں کثرت قابلات فیض قادح نہیں بلکہ کثرت قوابل موجب برکات بنی آدم ہیں اور یہ امران کو قوت