حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 432
حقائق الفرقان ۴۳۲ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ پر وہ کہا کرتی تھی کہ جو آگ کھائے گا وہ انگا ر ہے گا۔شمود نے ہمارے رسولوں کا انکار کیا۔ہم نے بھی ایسا پکڑا کہ کہیں نہ جانے دیا۔جانتے ہو کہ نوع کی قوم کو کس طرح غرق کیا۔تم کو چاہیے تھا کہ اس سے عبرت حاصل کرتے۔دار السلام اس میں سولہ لاکھ آدمی قتل کر دیے وہ جو بادشاہ تھا۔اس نے اپنی بیوی کا نام نسیم السحر “ رکھا ہوا تھا۔جس طرح صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے آدمی کو نیند آتی ہے۔اسی طرح اس کو اپنی بیوی کی صحبت خوشگوار معلوم ہوتی تھی۔جب اس نیم السحر " و قتل کیا تو کسی گلی کے کتے ہی چاہتے تھے۔کسی نے کفن تک بھی نہ دیا۔جب بادشاہ نے قید میں پانی مانگا تو فاتح بادشاہ نے سپاہ کو حکم دیا کہ اس کے محل میں سے تمام لعل و جواہرات لوٹ لاؤ۔وہ وحشی لوگ فوراً گئے اور تمام محل کی آرائش کو لوٹ کھسوٹ کر لے آئے تو اس کے سامنے ایک تھالی میں نہایت قیمتی قیمتی جواہرات بھر کر بادشاہ بغداد کے سامنے پیش کئے گئے کہ لو ان کو پیو اور پھر گالی دے کر کہا کہ بدذات تو فوج کو تنخواہ نہ دیتا تھا۔اور تیرے گھر میں اس قدر مال تھا۔یہ کہہ کر اس کا سر اڑا دیا گیا۔تم اپنی جان پر رحم کرو۔یاد رکھو کہ کسی کا حسن نہ کام آئے گا اور نہ کسی کا مال کام آئے گا۔نہ جاہ وجلال ، نہ علم ، نہ ہنر۔( البدر حصہ دوم کلام امیر مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۵۸-۵۹) ۱۱ تا ۱۳- فَعَصَوا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَّابِيَةً - إِنَّا لَمَّا طَعَا الْمَاءِ ووو حَمَلْنَكُمْ فِي الْجَارِيَةِ - لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ - ترجمہ۔تو انہوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسولوں کی تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا بڑی سخت پکڑ میں۔جب پانی حد سے بڑھ گیا ہمیں نے سوار کر لیا تم کو کشتی میں۔تا کہ اس واقعہ کو بنائیں تمہارے لئے ایک یاد گار تو اس کو یا در کھے کوئی یا درکھنے والا کان۔تفسیر۔عَصَوا۔انہوں نے رسول کی نافرمانی کی اور یہ تمام عذاب اسی سبب سے ان پر پڑا۔رابية - بڑھ چڑھ کر۔جَارِيَةً۔چلتی ہوئی کشتی۔بغداد مرتب