حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 431 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 431

حقائق الفرقان ۴۳۱ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ جھوٹ بولتے ہیں مگر ایک زمانہ کے بعد اگر وہ کبھی سچ بھی بولیں۔تب بھی کوئی ان کا اعتبار نہیں کرتا۔یہاں تک کہ اگر وہ قسمیں کھا کر بھی کوئی بات کہیں تو تب بھی کوئی یقین نہیں کرتا۔اسی طرح ست آدمی اپنی آبائی جائیداد تک بھی فروخت کر کے کھا جاتا ہے۔الْحَاقَةُ - مَا الْحَاقَّةُ - تم جانتے ہو کہ ہونے والی باتیں ہو کر ہی رہتی ہیں اور کس طرح ہو کر رہتی ہیں۔مثل کی طرح سنو۔كَذَبَتْ ثَمُودُ۔جن لوگوں نے حق کی مخالفت کی۔ان کو خدا نے ہلاک کر دیا۔شمود قوم نے تکذیب کی۔اس کا انجام کیا ہوا۔ہمارے ملک میں سلاطین مغل ، پٹھان، سکھ وغیرہ تھے۔جب انہوں نے نافرمانی کی تو خدا نے ان کو ٹھونک ٹھونک کر ٹھیک کر دیا۔پیارو! اگر تم بدی کرو گے تو تم کو بدی کا ضرور نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا۔یاد رکھو۔بدی کے بدلہ میں کبھی سکھ نہیں مل سکتا۔عاد قوم بڑی زبر دست تھی۔اس کو اللہ تعالیٰ نے ہوا سے تباہ کر دیا۔سات رات اور آٹھ دن متواتر ہوا چلی۔سب کا نام ونشان تک اڑا دیا۔بڑے بڑے عمائید قوم اس طرح گرے۔جیسے کھوکھلا درخت ہوا سے گر جاتا ہے۔بتاؤ تو سہی۔اب کہاں ہیں۔رنجیت سنگھ اور ان کی اولاد۔ان کے بیٹے پوتے اور پڑپوتے۔اس کا بیٹا ایک ہوٹل میں ایسی کسمپرسی کی حالت میں مرا کہ کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ کون تھا! وَ جَاءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبلَه - فرعون اور اس کی بستیوں کو الٹ کر پھینک دیا۔ایک میرے بڑے دوست شہزادہ تھے۔وہ بیچارے خود کپڑ اسی کر گزارہ کیا کرتے تھے۔اور ایک اور میرے دوست تھے۔وہ ان کو سینے کے لئے کپڑے لا دیا کرتے تھے۔اور خود دے آیا کرتے تھے۔انہوں ہی نے مجھے کہا کہ تم اس سے اپنے کپڑے سلوایا کرو۔خود دار بھی وہ ایسے تھے کہ کسی کو اس کی خبر تک ہونا گوارا نہیں کر سکتے تھے۔خود کبھی کسی سے کپڑا نہیں لیتے تھے۔اور اس عالم میں بھی ان کی مزاج سے وہ شاہانہ بو دور نہیں ہوئی تھی۔خمرے رکھا کرتے تھے کوئی اپنے حسن پر مغرور ہے۔کوئی اپنے علم پر اتراتا ہے۔کوئی اپنی طب پر اکڑتا ہے۔حالانکہ یہ سب غلط ہے۔جب تک خدا کا فضل نہ ہو۔کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔خدا سے ڈرو۔سچ سچ یہ بات ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔خدا رحم کرے میری ماں