حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 430 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 430

حقائق الفرقان ۴۳۰ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ و آلہ وسلم نے دی اور وہ پیشگوئیاں ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صداقت اور منکرین کی ہلاکت کے متعلق کیں کہ وہ ضرور پوری ہونے والی ہیں۔ان آیات میں پہلے انبیاء علیہم السلام اور ان کی امتوں کی مثال دی ہے اور بطور عبرت کے ان کا واقعہ پیش کیا ہے کہ وہ بھی مجھ سے پہلے انبیاء ورسول۔نبی ورسول نبی تھے۔اگر ان کے نہ ماننے والوں نے سکھ نہیں پایا تو تم کیوں کر سکھ پاؤ گے۔عاد اور ثمود کی قوم کا حال دیکھو کہ کیا ہوا اور خداوند تعالیٰ سے ڈرو کہ کہیں تمہارا بھی وہی حال نہ ہو۔قارِعَة۔ٹھونک کر سمجھانے والی۔بالطَّاغية - بہ سبب حد سے بڑھی ہوئی نافرمانی کے وہ ہلاک ہوئے۔عاتية - قابو سے نکلنے والی۔حد سے بڑھی ہوئی۔مؤتفكتُ۔جن پر پہاڑ گرا تھا۔سڈوم و مارا کے لوگ۔بِالْخَاطِقة۔ان کی خطا کاریوں کے سبب۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۰ مورخہ ۷ دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۸۲) سارا جہان یہاں تک کہ درخت بھی قانونِ الہی کے سب پابند ہیں۔گائے، بھینس، بیل، بکری وغیرہ کو دیکھو کہ وہ گھاس کو جھٹ جھٹ اپنے دانتوں سے کاٹ کر نگل جاتے ہیں۔پھر آرام سے یٹھ کر اس کو اپنے پیٹ سے نکال کر چباتے اور پھر نگلتے ہیں۔اور اسی طرح سے وہ جگالی کرتے ہیں اور اسی طرح آرام کر کے پیشاب و گو بر کرتے ہیں۔یہ ان کے ساتھ ایک سنت ہے۔اگر اس کے خلاف کوئی جانور کھاتا ہی چلا جائے اور جگالی اور آرام وغیرہ بالکل نہ کرے تو وہ بہت جلد ہلاک ہو جائے گا۔اسی طرح بچوں کی حالت ہے۔اگر بچہ اور بچہ کی ماں کوئی بد پرہیزی کریں تو دونوں کو تکلیف ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص کھانا کھانے کی بجائے روٹی کانوں میں ٹھونسنے لگے تو کیا وہ بچ جائے گا۔اسی طرح بہت سے قانون ہیں جو ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔وہ ذلیل ہو جاتے ہیں۔جھوٹے