حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 429
حقائق الفرقان ۴۲۹ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ سُوْرَةُ الْحَاقَةِ مَكِيّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ حاقہ کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جس کے پاس سچا علم۔قیامت کا اور وہ اس کے نتیجوں سے بھی خبر دینے والا ہے۔لا ۲ تا ۱۰ - اَلْحَاقَّةُ مَا الْحَاقَّةُ - وَ مَا ادريكَ مَا الْحَاقَةُ - كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَ عَادُ بِالْقَارِعَةِ - فَأَمَّا ثَمُودُ فَأَهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ - وَ أَمَّا عَادُ فَأَهْلِكُوا بِرِيج صَرُ صَرٍ عَاتِيَةِ - سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَ ثَنِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلِ خَاوِيَةٍ فَهَلْ تَرَى لَهُم مِّنْ بَاقِيَةٍ وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكُتُ بِالْخَاطِئَةِ - ترجمہ۔سچ ہونے والی۔کیا ہے وہ سچ ہونے والی۔اور تو نے کیا سمجھا کہ وہ سچی ہونے والی ہے کیا چیز۔شمود نے جھٹلایا اور عاد نے اس کھڑکھڑا ڈالنے والی کو۔وہ جو شمود تھے وہ تو ہلاک کر دیئے گئے۔اور عاد بھی ایک زناٹے کی آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے۔جڑ کاٹنے والے عذاب کو اللہ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن متعین کر رکھا تھا لگا تار۔اور (اے مخاطب ) تو ان لوگوں کو اس آندھی میں ان سے پچھڑے ہوئے دیکھے گا گویا وہ کھجوروں کے کھو کھلے جڑ کی طرح ڈھائے ہوئے پڑے ہیں۔تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں کوئی بھی بچا ہوا۔اور فرعون اور اس سے پہلے لوگ اور الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے یعنی قوم لوط ) خطاوار ہوئی تھی ( اس وجہ سے یعنی افعال طاغیانہ کے باعث )۔تفسیر - الحاقة۔سچ سچ ہو جانے والی۔ایک عظیم الشان شد نی امر۔جو اہل ہے۔اور یقیناً واقعہ ہونے والا ہے۔اس سے مراد آپ کے سخت اعداء کی تباہی ہے۔جس کی خبر رسول کریم صلی اللہ علیہ