حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 426
حقائق الفرقان ۴۲۶ سُوْرَةُ الْقَلَمِ چوتھی تو جیہ۔جو بالکل میرے مسلک پر ہے یہ ہے۔ساق اور اس کا کشف باری تعالیٰ کی صفت ہے اور صفات کا معاملہ ایسا ہی ہے کہ ان کی حقیقت ہمیشہ بلحاظ اپنے موصوف کے بدل جایا کرتی ہے مثلاً بیٹھنا ہماری صفت ہے جس سے ہم ہر روز متصف ہوتے ہیں۔مگر ایک بڑے ساہوکار یا کسی امیر کا عروج کے بعد بیٹھ جانا ہمارے ہر روزہ بیٹھ جانے سے نرالا ہوگا۔برسات کے دنوں میں مینہ کے زور سے دیوار کا بیٹھ جانا پہلے بیٹھنوں سے بالکل الگ ہوگا۔اور ایک بادشاہ کا تخت پر بیٹھ جانا کوئی اور ہی حقیقت رکھے گا۔ان مثالوں میں دیکھ لو۔بیٹھنا ایک صفت ہے مگر بلحاظ تبدل موصوفین کے اس صفت کا ایک قسم دوسری قسم سے بالکل علیحدہ ہے۔اب ان سب سے ایک لطیف بیٹھنا سنو ! جس کی حقیقت ان تمام بیٹھنوں سے بالکل الگ ہے وہ بیٹھنا کیا ہے؟ کسی کی محبت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا اور کسی کی عداوت کا کسی کے دل میں بیٹھ جانا کسی کی کلام کا کسی کے دل میں گھر کر لینا یا بیٹھ جانا۔جب اہلِ اسلام نے باری تعالیٰ کو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی - (الشوری: ۱۲) انو پیم۔بے مانند مانا ہے تو اس بات کا تسلیم کرنا ہر عاقل منصف کا فرض ہے کہ وہ اس کی تمام صفات بھی اس پاک موصوف کی طرح کیس گیفل اور انو پیم۔بے مانند مانتے ہوں گے۔اس کی قدرت۔اس کی طاقت۔اس کا علم۔اس کی حیات۔اس کا موجود ہونا۔اس کا ازلی ہونا۔اس کا ابدی ہونا۔اس کا ید۔اس کا وخبہ۔اس کی ساق۔اس کا کشف۔اس کا عرش پر بیٹھنا سب بے مثل ہوگا۔چونکہ ہم اس کی پاک ذات سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔اس لئے ہماری کوئی صفت اس کی کسی صفت سے مشابہ نہ ہوگی۔تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۷۳ تا ۱۷۷) لے اُس کے جیسی تو کوئی بھی چیز نہیں۔