حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 425
حقائق الفرقان ۴۲۵ سُوْرَةُ الْقَلَمِ وَقَدْ كَانُوا يُدعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ کے پیچھے وَهُمْ سَالِمُونَ کا کلمہ ان معنے کا قرینہ موجود ہے۔جس کے معنی ہیں ” اور تحقیق وہ لوگ بلائے جاتے تھے سجدہ کی طرف جبکہ بھلے چنگے تھے“ ان معنی کی تصدیق تفسیر کبیر کے جلد نمبر ۸ صفحہ ۲۷۴ سے بخوبی ہوسکتی ہے۔دوسری توجیہ۔اس آیت شریف کی السّاقُ ذَاتُ الشَّيرِ وَ حَقِيْقَةُ الْأَمْرِ - کیا معنی ساق کا لفظ عربی زبان میں کسی چیز کی ذات اور اس کی اصل حقیقت کو کہتے ہیں۔يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقی کے معنے یہ ہوئے۔جس دن اشیاء کی اصل حقیقت ظاہر ہوگی۔اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیمات کے منکر اپنی نافرمانیوں کا بدلہ دیکھیں گے۔اس وقت اتماما للحجہ پھر سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے مگر پہلی نافرمانی کا بد نتیجہ یہ ہوگا کہ اس وقت سجدہ نہ کرسکیں گے۔تیسری توجیہ اس آیت شریف کی یہ ہے کہ ہر ایک چیز کی پہچان مختلف اسباب سے ہوا کرتی ہے مثلاً کوئی شخص ایک آدمی کو اس کا منہ دیکھ کر پہچان سکتا ہے اور سابقہ جان پہچان والا ادنی نشان جیسے قدم اور ساق کو دیکھ کر پتہ لگا سکتا ہے۔اسی طرح ایک سمجھدار، صحیح الفطرت، صاحب دانش ادنی ادنیٰ امور سے باری تعالیٰ کے وجود اور اس کی ہستی کا پتہ حاصل کر سکتا ہے۔شعر برگ درختان سبز در نظر ہوشیار ہر ورقے دفتر معرفت کردگار کے اور کم فہم مریض الفطرت کو عمدہ عمدہ دلائل سے بھی معرفت الہی حاصل نہیں ہو سکتی۔اسی طرح ہنگامہ محشر کے وقت جو اسی موجودہ دنیا کا نتیجہ ہے۔جب الہی صفات کا ظہور ہوگا تو ناسمجھ اپنی کمی معرفت اور نقص عرفان کے باعث بخلاف سمجھ داروں کے سجدہ سے محروم رہ جاویں گے۔اور اسلام والے اپنے عرفان اور ایمانی نور کے باعث ادنی ظہور صفات پر جسے کشف ساق کہتے ہیں۔جو کشف وجہ سے کم ہے سجدہ میں گریں گے اور منافقوں نافہموں کی پیٹھ اس وقت طبق واحد ہو جائے گی۔لے باشعور انسان کی نظر میں سر سبز درختوں کے پتے ، خالق کی معرفت کے صحائف کے اوراق ہیں۔