حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 424 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 424

حقائق الفرقان ۴۲۴ سُوْرَةُ الْقَلَمِ الساق : عربی میں شدت اور تکلیف کو کہتے ہیں اور کشف الساق شدت اور تکلیف کا ظہور ہے۔پس يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقِ کے معنے ہوئے۔جب شدت اور تکلیف کا ظہور ہوگا ان معنوں کا ثبوت علاوہ لغت عرب کے قرآن کریم سے دیا جاتا ہے۔كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِ - وَ قِيْلَ مَنْ رَاقٍ - وَظَنَّ أَنَّهُ الْفِرَاقُ - وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ إلَى رَبَّكَ يَوْمَئِذٍ نِ الْمَسَاقُ - (القيامة : ۲۷ تا ۳۱ ) عَجِبْتُ مِنْ نَّفْسِى وَ مِنْ اَشْفَاقِي وَ مِنْ طَرَّاوِي الطَّيْرِ عَنْ أَرْزَقِهَا في سَنَةٍ قَد كَشَفَتْ عَنْ سَاقِهَا! اور اب جب جنگ کی شدت ہوتی ہے تو کہتے ہیں كَشَفَ الْحَرْبُ عَنْ سَاقٍ یعنی گھمسان کا رن واقع ہوا۔اب اس تحقیق پر آیت شریف کا یہ مطلب ہوا کہ جب عبادت کے کمزور کو مرض موت کی شدت انتہا درجہ کو پہنچ جاتی ہے اور بڑا بوڑھا یا نا تواں زار ونزار ہو جاتا ہے اور اس وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلانے والے موذن نے حَى عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاح کا کلمہ بڑے اونچے منار سے بلند آواز کے ساتھ پکار سنایا۔اور وہ میٹھی آواز سلیم الفطرت ناتواں کے کان میں پہنچی۔اب اس کا دل مسجد کو جانے کے لئے تڑپتا ہے۔مگر اس وقت وہ مرنے کی حالت میں مبتلا۔اچھی طرح ہل جل بھی نہیں سکتا اور دل میں کڑھتا ہے مگر اب اس کڑھنے سے قوی نہیں ہو جاتا۔اسی آیت شریف میں بقیہ حاشیہ۔اور سجدہ کی طرف بلائے جائیں گے۔پس ان کو سجدہ کرنے کی طاقت نہ ہو گی۔اُن کی آنکھیں مارے ضعف و دہشت) کے بے نور ہو گئی ہوں گی۔ذلت نے انہیں ڈھانک رکھا ہوگا۔اور ( اس حالت سے پہلے ) جب بھلے چنگے تھے۔سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے۔اے ایسا نہ ہو گا۔جس وقت سانس ہنسلی پر پہنچ جاتی ہے اور کہا جاتا ہے۔کون افسوس کرنے والا ہے (جو اسے اب بچالے ) اور ( مریض ) یقین کرتا ہے کہ اب جدائی کا وقت ہے اور سخت گھبراہٹ اس پر طاری ہوتی ہے۔اس وقت چلنا تیرے رب کی طرف ہے را جز عرب کے نامی شاعر کا قول ہے۔۲۔تعجب ہے کہ قحط کے دنوں میں جب شدت سے اضطراب واقع ہوا۔میں بھوکوں مرنے کے خوف سے پرندوں کو ان کی روزی کھانے سے روکتا تھا۔