حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 423
حقائق الفرقان ۴۲۳ سُوْرَةُ الْقَلَمِ بعض تفاسیر کے بیان کردہ معانی کی بناء پر اس آیت پر آریوں اور عیسائیوں نے اعتراض کیا ہے جو کہ بمعہ جواب درج ذیل ہے۔ وو وو مکذب براہین نے تکذیب کے صفحہ ۶۹ میں قرآن شریف کی آیت يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساق کو صانع عالم کی ہستی کی دلیل سمجھ کر یہ اعتراض کیا ہے ” خدائے بے چون و چرا محمد یوں کو کہتا ہے۔ میں قیامت کے روز تم کو دیدار دوں گا اور تم نہیں مانو گے ۔ اور پھر میں تمہارے اصرار کرنے پر پنڈلی سے جامہ اٹھا کر بتلاؤں گا تب تم سجدہ میں گرو گے۔ جائے تعجب اور حیرت ہے۔ خداوند تعالیٰ بسبب زود رنجی کے جامہ سے باہر ہوا جاتا ہے۔ اور نہیں شرماتا و مصدق : تمام اعتراض از سر تا پا افتر او بہتان اور راستی سے بے نام و نشان ہے۔ اوّل اس لئے کہ اگر معترض ہی کا وہ ترجمہ مان لیا جاوے جو خود معترض نے اس آیت کے نیچے لکھا ہے جس روز جامہ اٹھایا جاوے گا پنڈلی سے اور بلائے جاویں گے لوگ واسطے سجدہ کرنے کے۔ بس نہ کر سکیں گے ( تکذیب صفحہ نمبر ۶۸) جب بھی اس ترجمہ سے وہ باتیں نہیں نکلتیں جو مکذب براہین نے اپنے اعتراض میں بیان کی ہیں ۔ مثلاً ” تم کو دیدار دوں گا ایک۔ ” اور تم نہیں مانو گے دو۔ پھر وو میں تمہارے اصرار پر تین ۳۔ تب تم سجدہ میں گرو گے چار ۔ ” زود رنجی، پانچ نہیں ۶ دو شرما تا چھ ۔ تعجب و حیرت ہے فَلَا يَسْتَطِيعُونَ کے معنے مکذب نے یہ لکھے ہیں ۔ ” پس نہ کر سکیں وو۔ گئے اور اعتراض میں مکذب نے لکھا ہے تب تم سجدہ کرو گے آریہ صاحبان! انصاف کرو! اور سچ کے اختیار کرنے میں دیر نہ کرو ۔ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (الاعراف: ۱۲۹) اب میں آپ کو اس آیت کی بقدر ضرورت تشریح سناتا ہوں اور آیت کا ما بعد بھی ساتھ ہی بیان کرتا ہوں ۔ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَ يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۖ وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سُلِمُونَ - ا یاد رکھو انجام کار کامیابی خدا ترسوں کے حصہ میں آتی ہے۔ ۲ے جس وقت سخت اضطراب کا وقت ہوگا۔