حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 417
حقائق الفرقان ۹ - فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ - ترجمہ۔تو جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا۔مکذبین کا کہنا نہ مانو۔۴۱۷ سُوْرَةُ الْقَلَمِ مباحثہ کے وقت مخالف کے مقدمات کو مان نہیں لینا چاہیے۔بلکہ مخالف جو باتیں پیش کرتا ہے وہ غالب دعاوی ہی ہوتے ہیں چکر دے کر ان سے دلائل پوچھنے چاہیں۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد انمبر ۸، ۹ مورخہ ۳۰ / نومبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۲۷۷) ا۔وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيدُ هِنُونَ - ترجمہ۔وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ تم ذرہ دھیمے پڑو تو وہ بھی دھیمے پڑ جائیں۔تفسیر۔وہ چاہتے ہیں کہ تو ان سے چکنی چپڑی باتیں کرے اور وہ بھی تیرے ساتھ ایسی ہی باتیں کریں اور اپنے مذہب پر پکے رہیں۔حق کے منکرین ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ مذہب کے معاملہ میں ان کے ساتھ گفتگو نہ کی جائے اور جو عیب ان میں ہے وہ کبھی ان کو نہ جنتلا یا جاوے اور باہمی میل جول ہوتار ہے۔یہ بات خداوند تعالیٰ کو پسند نہیں۔ان آیات میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ عمائد قریش جمع ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپس میں صلح جوئی اختیار کریں اور اس کی راہ یہ ہے کہ اگر آپ کو مال و دولت کی خواہش ہے تو ہم بہت سا مال جمع کر دیتے ہیں اور اگر عیش و عشرت مقصود ہے تو عمدہ سے عمدہ کنواری لڑکیاں آپ کے لئے بہم پہنچا دیویں۔غرض ہر طرح سے لالچ دیا گیا مگر آپ نے فرمایا کہ میں ان اشیاء میں سے کسی کا بھی آرزو مند نہیں ہوں۔میں تو صرف تمہاری بہتری چاہتا ہوں تا کہ تم ہلاک ہونے سے بچ جاؤ۔مروی ہے کہ وہ لوگ جو ایسا پیغام لائے تھے ان کے نام یہ ہیں۔ولید بن مغیرہ ابو جہل، اسود بن عبد یغوث اور اخنس بن شریق۔مدارات جائز ہے۔مداہنہ جائز نہیں۔امام غزالی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ مدارات اور مداہنہ میں باریک سا فرق ہے۔مدارات اس کو کہتے ہیں کہ اپنے دین کی سلامتی اور حفاظت کے واسطے