حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 416
حقائق الفرقان ۴۱۶ سُوْرَةُ الْقَلَمِ اسی خلق عظیم کی طرف اشارہ ہے۔جہاں گزشتہ انبیاء کا ذکر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ہوا ہے۔فَبِهُدهُمُ اقْتَدِه (الانعام:۹۱) انبیاء سابقین میں جو خاص باتیں منفر د طور پر۔مخصوص تھیں۔ان تمام اخلاق متفرقہ کو اپنی ذات میں جمع کرلے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۶ ۷ مورخہ ۲۳ نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۷۶) حدیث شریف میں آیا ہے اثْمَا بُعِثْتُ لِأُتَيَّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ میری بعثت اس غرض کے واسطے ہے کہ تمام اخلاق حسنہ کو اپنے کمال تک پہنچا دوں۔اسی پر شاعر نے کہا ہے حسنِ یوسف دم عیسی ید بیضاداری آنچه خوباں آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ بِأَيْكُمُ الْمَفْتُونُ - یہ پیشگوئی ہے کہ اے نبی وہ زمانہ قریب ہے جبکہ تو بھی دیکھ لے گا۔اور یہ تیرے مخالف بھی دیکھ لیں گے کہ کس کی بات سچی نکلتی ہے۔اور کون مجنون ثابت ہوتا۔ں ہوتا ہے۔فتح مکہ نے بہت جلد کفار پر ثابت کر دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فرمایا تھا وہی سچ اور حق تھا۔مجنون اسباب صحیحہ کے مہیا نہ کر سکنے کے سبب ناکام رہتا ہے۔انبیاء ہمیشہ کا میاب ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۹۴۸ مورخه ۳۰ / نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۷) ہوتے ہیں۔- إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ - ترجمہ۔بے شک تیرا پروردگار اسے خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے گمراہ ہے ( یعنی تیرے منکر گمراہ ہی ہیں ) اور وہ ہدایت پائے ہوؤں کو بھی خوب جانتا ہے ( یعنی تجھے جو سب ہادیوں کا سردار ہے )۔تفسیر۔اللہ تعالی نا کامیابی اور کامیابی اندھا دھند نہیں دیا کرتا بلکہ مومن کو کامیاب کرتا ہے اور منکر کو نا کا می حاصل ہوتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۸ ، ۹ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۱۱ صفحه ۲۷۷) لے تو انہیں کے سیدھے راستہ کی پیروی کر۔۲؎ آپ حسن یوسف دم عیسی اور ید بیضا رکھتے ہیں۔وہ تمام معجزات جو دوسروں کی انفرادی خوبیاں ہیں وہ سب آپ میں جمع ہیں۔