حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 409
حقائق الفرقان ۴۰۹ سُوْرَةُ الْمُلْكِ ۲۲ - أَمَّنْ هُذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَلْ تَجُوا فِي عُتُوٍّ وَ نُفُورٍ - ترجمہ ۔ بھلا ایسا کون ہے جو تمہیں روزی دے اگر رحمن روزی بند کر دے۔ ہاں کا فر تو سرکشی اور حق سے نفرت کرنے پر اڑے بیٹھے ہیں۔ تفسیر - امسک ۔ اس میں پیشگوئی ہے کہ جب قحط پڑے گا تو پھر کون تمہاری امداد کرے گا ؟ مکہ میں ایک دفعہ شدید قحط پڑا تھا۔ جس میں لوگوں نے ہڈیاں پیس پیس کر کھائی تھیں ۔ لجوا ۔ اڑ رہے ہیں ۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ا ا نمبر ۷۶ مورخہ ۲۳ نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۷۵) ۲۳- أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًا عَلَى وَجْهِهَ أَهْدَى أَمَّنْ يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ۔ ترجمہ ۔ تو کیا جو شخص اپنا منہ اوندھا کئے چلے وہ زیادہ راہِ راست پر ہے یا وہ شخص جو سیدھا راہِ راست پر چلا جا رہا ہے۔ تفسیر ۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نمونہ ان کے سامنے پیش کیا گیا ہے کہ دیکھو شخص تم میں ہے جو بڑی دوراندیشی سے سیدھا ہو کر چلتا ہے۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ اس کی راہ کو تم بھی اختیار کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ ورنہ وہ تم پر فتح یاب ہوگا۔ کیونکہ اس کے مقابلہ میں تم تو منہ کے بل گرے ہوئے ہو۔ تم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ (ضمیمه اخبار بد ر قادیان جلد ا ا نمبر ۶ ، ۷ - ۲۳ نومبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۷۵) ۲۴- قُلْ هُوَ الَّذِي أَنْشَاكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ - ترجمہ ۔ ان سے کہہ دو ہی تو رحمن ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لئے سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں اور سمجھنے کو دل بنائے ۔ اور تم لوگ بہت ہی کم شکر گزار ہو۔ تفسیر ۔ اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا ذکر کرتا ہے۔ اس نے تمہیں کان، آنکھ اور دل دیا۔ اگر آدمی کے ناک کی نوک ایک ماشہ بھر کٹ جائے تو وہ مجلس میں بیٹھنے کے قابل نہیں رہتا۔ ہمارے سامنے وہ اندھے موجود ہیں لیکن ہم آنکھوں والے اپنی آنکھوں کی قدر نہیں کرتے۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ