حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 407 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 407

حقائق الفرقان ۴۰۷ سُوْرَةُ الْمُلْكِ تفسیر۔ذلولا۔وہ خدا جس نے زمین کو تمہارے ماتحت کیا ہے۔فَامْشُوا۔ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جاؤ۔یہ صحابہ کو حکم ہے کہ جہاں یہ سمجھو کہ اس جگہ ہمارا دین قائم نہیں رہتا۔اس جگہ کو چھوڑ دو۔ذَلُول۔اس اونٹنی کو بھی کہتے ہیں جس سے لادنے وغیرہ کا ہر قسم کا کام لیا جائے۔وہ جانور جو بار برداری کا کام دیں۔زمین بھی چلتی ہے اور تمام انسانوں اور مکانوں کو اپنے ساتھ اٹھائے پھرتی ہے۔اس آیت میں آریاؤں کا ایک رد ہے جو کہتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں ملتا ہے۔وہ پہلے جنم اور تناسخ کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔خدا نے تمہیں زمین دی اور اسے تمہارے لئے مسخر کر دیا۔بتلاؤ یہ تمہارے کس عمل کے نتیجہ میں تمہیں ملی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۶ ، ۷-۲۳ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۵) ۱۱ ۱۷ - وَاَمِنْتُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ أَنْ يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَبُورُ - ترجمہ۔کیا تم بے خوف ہو گئے اس رب سے جو آسمان کا مالک ہے اس سے کہ زمین میں تمہیں دھنسا دے پھر وہ پڑی جھکولے مارا کرے۔تفسیر - يُخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ تمہیں ذلیل کر دے۔اس میں غزوہ بدر کی طرف اشارہ ہے۔تمور۔زمین کانپ رہی ہے کیونکر عمائد مر گئے ہیں۔وو مَنْ فِي السَّمَاءِ۔پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ خدا آسمان میں ہی ہے۔انہیں سمجھنا چاہیے کہ قرآن شریف نے اللہ تعالیٰ کے واسطے کوئی خاص مکان تجویز نہیں کیا بلکہ للہ تعالیٰ کے متعلق انه بِكُلِّ شَيْءٍ مُحيط - ( حم السجدة: ۵۵) فرمایا ہے۔ہاں اس آیت میں جو فی السَّمَاء کا لفظ آیا ہے۔یہ ایک محاورہ عربی زبان ہے۔اور اس سے مراد ہے۔ایک اٹل بات۔اور چونکہ آسمان بلندی پر ہے۔اور سب بلندیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔اس لئے بغرض اظہار عظمت خداوندی یہ محاورہ استعمال کیا گیا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد نمبر ۶ ، ۷ - ۲۳ / نومبر ۱۹۱۱ ، صفحه ۲۷۵) لے بے شک اللہ سب ہی چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔