حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 403 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 403

حقائق الفرقان ۴۰۳ سُوْرَةُ الْمُلْكِ وَ لَقَد زَيَّنَا السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَهَا رُجُومًا لِلشَّيْطِيْنِ وَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ - (الملك: ٢) ہم ہی نے مزین کیا اس ورلے آسمان کو روشن چراغوں سے اور کر دیا ہم نے انہیں مارشیاطین کے لئے اور تیار کر دیا ہم نے ان کے لئے جلنے کا عذاب۔آنا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّبْع فَمَنْ يَسْتَيعِ الأَن يَجِدُ لَهُ شِهَا بَارَصَدَ ا (الجن :١٠) تحقیق ہم بیٹھتے تھے۔بیٹھنے کی جگہوں میں سننے کے لئے۔پس اگر اب کوئی بات سنا چاہے۔پاتا ہے اپنے لئے شہاب انتظار میں۔تم ہندیوں اور عام یورپ والوں سے تو طائف کے عرب نمبر دار ہی اچھے نکلے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم کے عہد نہ ء سعادت مہد میں میٹی ارز غیر معمولی بکثرت نظر آئے تو عام طور پر لوگوں نے خیال کیا کہ آسمان تباہ ہو چلا۔اس لئے لگے اپنے مویشیوں کو ذبح کرنے۔تب ان کے نمبر دار عبدیالیل نے کہا کہ اگر وہ ستارے نظر آتے ہیں۔جن سے تم لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہو تو جہان خراب نہیں ہو گا۔یہ ابن ابی کبشہ ( ہمارے نبی کریم کی طرف اشارہ کرتا ہے ) کے ظہور کا نشان ہے۔ابن کثیر میں ہے آنا لَمَسْنَا السَّمَاء کے نیچے ہی ابن جریر کہتا ہے۔اس آیت کے نیچے کہ آسمان کی حفاظت دو باتوں کے وقت ہوتی ہے۔یا عذاب کے وقت جب ارادہ الہی ہو کہ زمین پر اچانک عذاب آجاوے یا کسی مصلح راہ نما نبی کے وقت۔اور یہی معنے ہیں اس آیت شریفہ کے۔انا لا نَدْرِكَ اَشَدُّ يُرِيدَ بِمَنْ فِي الْأَرْضِ أَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا - (الجن: ۱۱) یعنی ستاروں کے گرنے کو دیکھ کر وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ آیاز مین والوں کے لئے تباہی کا ارادہ کیا گیا ہے۔یا ان کے رب نے انہیں کوئی فائدہ پہنچانا ہے۔خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ مصلح کے تولد ، ظہور اور اس کی فتمندی پر حزب الرحمان اور حزب الشیطان کی جنگ پہلے اوپر ہوتی ہے۔پھر زمین پر۔