حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 401 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 401

حقائق الفرقان ۴۰۱ سُوْرَةُ الْمُلْكِ امور سطح مستوی اور نقطہ سے جس کو سیاہی سے بناتے ہیں اور قلم کے خط سے شروع ہوتا ہے۔خط استوی۔جدی، سرطان، افق ، نصف النهار وغیرہ سب فرضی باتیں ہیں۔مگر اس فرض سے کیسے حقائق مادیہ تک پہنچ گئے ہیں۔لیکن اگر ان بدنصیبوں کو کہیں کہ مومن بالغیب ہو کر دعاؤں اور نبیوں کی راہوں پر چل کر دیکھو تو کیا ملتا ہے۔تو ہنس کر کہتے ہیں۔کیا آپ ہمیں وحشی بنانا چاہتے ہیں۔میں نے بارہا ان ( مادیوں) کو کہا ہے۔تندرست آنکھ بدوں اس خارجی روشنی کے اور تندرست کان بدوں اس روشنی کے اور تندرست کان بدوں خارجی ہوا کے اور ہمارا نطفہ بدوں ہم سے خارج رحم کے۔بہت دور کی اشیاء بدوں ٹیلی سکوپ کے بار یک در بار یک اشیاء بدوں مائیکرو سکوپ کے۔دور دراز ملکوں کے دوستوں کی آوازیں بدوں فونوگراف کے اور ان کی شکلیں بدوں فوٹوگرافی کے نہیں دکھائی دیتیں۔اب جب کہ تم ان وسائط کے قائل ہو اور اضطراراً قائل ہونا پڑتا ہے تو روحانی امور میں کیوں وسائط کے منکر ہو۔خدا تعالیٰ کی ہستی کو مان کر بھی تم ملک اور شیاطین کے وجود پر کیوں ہنسی کرتے ہو۔افسوس اس کا معقول جواب آج تک کسی نے نہیں دیا ناظرین جس طرح سچے وسائط ہمارے مشاہدات میں ہیں۔اسی طرح بچے وسائط مکشوفات میں بھی ہیں۔جس طرح مشاہدات میں الہبی ذات وراء الورا ہے اور یہ ضرور ہے۔اسی طرح الہبی ذات روحانیات میں بھی وراء الورا ہے اور اگر روحانیات میں بھی بعض وسائط غلط اور وہم ہیں تو مشاہدات بھی اس غلطی اور وہم سے کب خالی ہیں۔فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام اور ان کے ارواح کے لئے بطور جان کے ہیں۔شیاطین بھی ہلاکت، ظلمت اور جناب الہی سے دوری اور دکھوں کے پیدا کرنے کے لئے بمنزلہ اسٹیم کے اسٹیم انجن کے لئے ہیں۔خلاصه امور چهارگانه مذکوره ا۔مظاہر قدرت کے دیکھنے والے اعلیٰ بھی ہوتے ہیں۔اور ادنی بھی۔ادنی کو اعلیٰ کی رؤیت کا انکار مناسب نہیں۔