حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 400 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 400

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْمُلْكِ کا فرومومن، جاہل و عالم، بت پرست و خدا پرست، سوفسطائی، دہریہ، جناب الہی کا معتقد۔غرض سب کے سب وسائل و وسائط کو عملاً مانتے ہیں۔کون ہے جو بھوک کے وقت کھانا ، پیاس کے وقت پینا ، سردی کے وقت کوئی دوائی یا گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ اختیار نہیں کرتا۔مقام مطلوب پر جلدی پہنچنے کے لئے میل ٹرین یا اسٹیر کو پسند نہیں کرتا۔اگر مومن صرف حضرت حق سبحانہ ، کی مخلصانہ عبادت کرتا اور شرک اور بدعت اور اھواء سے پر ہیز کرتا ہے۔تو غرض اس کی اسے ذریعہ قرب الہبی بنانا ہوتا ہے۔اور بت پرست اگر چہ حماقت سے بت پرست ہے مگر کہتا وہ بھی یہی ہے کہ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى الله زُلفى (الزمر: ۴) ہم تو ان کو خدا کے قرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔اگر چہ یہ ان کا کہنا اور اس کا عمل درآمد غلط ہی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب صیحیحہ بھی ہوتے ہیں اور ایسے اسباب بھی ہیں جن کا مہیا کرنا مومن کا کام ہے اور ایسے بھی جن کا مہیا کرنا عام عقلمندوں اور داناؤں کا حصہ ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب ماننا باعث شرک ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب خیال کرنا جہالت اور وہم اور حماقت ہے۔تعجب انگیز بات ہے کہ بہت سے فلاسفر، سائنس دان اور حکماء علل مادیہ اور اسباب عادیہ پر بحث کرتے کرتے ہزار ہا نکات عجیبہ اور دنیوی امور میں راحت بخش نتائج پر پہنچ جاتے ہیں۔مگر روحانی ثمرات پر ہنسی ٹھٹھے کر جاتے ہیں۔جنوب شمال کو قطب اور قطب نما کی تحقیق میں اور اس پر مشرق و مغرب کو چھان مارا ہے اور سورج اور چاند کی کرنوں سے اور روشنیوں سے بے شمار مزے لوٹے ہیں۔لیکن اگر کسی کو انہیں نظاموں سے ہستی باری پر بحث کرتا دیکھ لیں تو اس کے لئے مذہبی جنون اور اس کو مجنون قرار دیتے ہیں۔کیسا بے نظیر نظارہ ہے جس کو ایک اسلام کا حکیم منظم کرتا ہے اشقیاء درکار عقبی جبری اند اولیاء درکار دنیا جبری اندک علم ہندسہ جس کی بناء پر آج انجینئر نگ اور اسٹرانومی معراج پر پہنچ گئی ہے۔سوچ لو۔کیسے فرضی ا آخرت بدبختوں کے لئے نخواستہ ہوگی اور دنیا اولیاء کے لئے نخواستہ ہے۔( یعنی ناخوشگوار ہے)