حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 394
حقائق الفرقان ۳۹۴ سُوْرَةُ الْمُلْكِ رُجُومًا لِلشَّيطين مجھے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چند ایسے صاف اور بدیہی امور کو بیان کر دوں۔جن کے ملحوظ رکھنے سے آیات نمبر ۲ اور نمبر ۳ کے فہم میں بہت سہولت ہو۔کیونکہ اس سوال پر آجکل بہت زور دیا جاتا ہے اور عام کالجوں کے لڑکے اور وہاں سے نکل کر بڑے عہدوں پر ممتاز اور ان کے ہم صحبت ایسی باتوں پر بہت تمسخر کرتے ہیں۔پس چندا مور بدیہی کا بیان کرناضروری معلوم ہوا۔اول: مناظر قدرت کو دیکھنے والے مختلف الاستعداد لوگ ہوا کرتے ہیں۔مثلاً دوسرے کی آنکھوں کو ایک بچہ بھی دیکھتا ہے جو مصنوعی اور اصلی آنکھ میں تمیز نہیں کر سکتا۔پھر ایک عظمند بھی دیکھتا ہے۔گو وہ اصلی اور مصنوعی میں فرق کر لیتا ہے۔مگر آنکھ کے امراض سے واقف نہیں ہوسکتا۔اور نہ اس کی خوبیوں اور نقصانوں سے آگاہ ہوتا ہے۔پھر شاعر دیکھتا ہے جو اس کے حسن و فتح پر سینکڑوں شعر لکھ مارتا ہے۔پھر طبیب ڈاکٹر دیکھتا ہے۔جو اس کی بناوٹ اور امراض پر صدہا ورق لکھ دیتا ہے۔پھر موجدین دیکھتے ہیں۔جیسے فوٹو گرافی کے موجد نے دیکھا اور دیکھ کر فوٹوگرافی جیسی مفید ایجادیں کیں۔پھر اس کے اور بھائی دیکھتے ہیں جنہوں نے عجیب در عجیب ٹیلی سکوپ وغیرہ ایجاد کئے۔پھر ان سے بالا تر صوفی دیکھتا ہے۔اور اس سے بھی اوپر انبیاء ورسل دیکھتے ہیں۔اور ان سب سے بڑھ چڑھ کر اللہ کریم دیکھتا ہے۔غرض اسی طرح پر ہزاروں ہزار نظارہ ہائے قدرت ہیں اور ان کے دیکھنے والے الگ الگ نتیجے نکالتے ہیں۔اب ہم شہاب ثاقبوں کے متعلق لکھتے ہیں۔شہاب وہ چیزیں ہیں جنہیں انگریزی میں میٹر بلے کہتے ہیں یہ تو بچہ ، عامی ، شاعر ، حکیم سب یکساں دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ شہب گاہ گاہ نظر آتے ہیں۔اس سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اب یہ بات کہ کیوں کر گرتے ہیں۔اس پر خدا داد عقل والے بھی غور کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ کیوں گرتے ہیں اور نیز یہ بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔اس کا کوئی کام لغو اور بے حکمت نہیں ہوتا۔اس لئے ہم میٹر ز کے متعلق عامیوں کے بے فائدہ نظارہ کو چھوڑ کر پہلے حکماء کا نظارہ بیان کرتے ہیں۔METEORS