حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 392
حقائق الفرقان ۳۹۲ سُوْرَةُ الْمُلْكِ اور مغفرت اور اجر عظیم انہوں نے حاصل کیا۔عزیز - پیاری باتوں کو پیار کرنے والا۔غالب۔بڑی عزت والا ہے۔اور بندوں سے غلطیاں ہوئی ہوں تو وہ استغفار کریں۔وہ معاف کرنے والا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۵۰۴ مورخه ۱۶/ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۰) الَّذِى خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفُوتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِن فُطُورٍ - ترجمہ۔جس نے تہ بہ تہ یا چوڑے چوڑے سات آسمان بنائے۔اے دیکھنے والے! بھلا تجھ کو بے محنت دینے والے اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں کچھ کسر دکھائی دیتی ہے (ایک بار نہ دیکھے تو) دوبارہ دیکھ لے کیا تجھے کوئی کوتا ہی دکھائی دیتی ہے؟۔فسیر۔سَبْعَ سَبُوت۔سات آسمان چھوٹے بڑے سیاروں اور ستاروں کے آسمان پرسات طبقات ہیں۔۔طباقا۔کے دو معنے ہیں ۱۔بہت چوڑے چوڑے ۲۔ایک دوسرے کے اوپر یا ایک دوسرے کے بعد۔آسمان کے ذکر میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ انسانی زندگی کے لوازمات کی بہت سی اشیاء آسمان سے وابستہ ہیں۔آسمان سے پانی آتا ہے۔تو کھیتی بنتی ہے۔اور سورج کی دھوپ سے وہ پکتی ہے آسمان سے بارش نہ ہو۔تو کنویں اور دریا بھیخشک ہو جانے لگتے ہیں۔جب ظاہری ضروریات کے واسطے انسان آسمان کا محتاج ہے تو روحانی فیوض کے واسطے تم کیوں آسمانی وحی والہام کی قدر نہیں کرتے۔خَلْقِ الرَّحْمنِ۔رحمانی تقاضا سے جو اشیاء مفت میں مل گئی ہیں۔ان کی شکر گزاری کرو۔ان میں کوئی فرق نہیں۔سورج برابر روشنی دیئے جاتا ہے۔پھر ضرورت نبوت میں کیوں فرق کے قائل بنتے ہو۔تفوت۔اضطراب کو بھی کہتے ہیں اور اختلاف کو بھی کہتے ہیں۔اضطراب یہ ہے کہ کوئی چیز کہیں کی کہیں ڈال دی جائے۔ایسا نہیں ہے۔اور نہ ایسا اختلاف اور گڑ بڑ ہے کہ مثلاً آگ کی خاصیت پانی