حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 391
حقائق الفرقان ۳۹۱ سُوْرَةُ الْمُلْكِ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا کی تمام قوموں پر روحانی مردگی وارد ہو چکی تھی۔اور بر و بحر ہلاک ہو چکے تھے۔اسی کی طرف قرآن مجید میں دوسری جگہ اشارہ فرمایا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُم (الانفال:۲۵) اے مومنو! اللہ اور رسول کی بات مانو۔جبکہ وہ تمہیں بلاوے تا کہ تمہیں زندگی عطا کرے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۵۰۴ مورخه ۱۶/ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۰) ليبلوكم۔تاکہ تمہیں انعام دے۔انعام امتحان کے بعد ہوتا ہے۔امتحان کے معنے ہیں۔محنت میں ڈالنا۔جس کسی کو ایک محنت اور بلا میں اور مشقت میں ڈالا جاتا ہے۔اور وہ اس سے کامیاب نکلتا ہے تب وہ انعام پاتا ہے۔تا کہ دیکھنے والے دیکھیں کہ محنت کا نتیجہ کیا ہے۔اور وفاداری کا پھل کس طرح ملتا ہے۔اسی طرح دوسروں کو نیکی کی تحریک ہوتی ہے۔بعض نادانوں نے اس لفظ پر اعتراض کیا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کیوں کرتا ہے۔کیا وہ اپنے علم غیب سے نہیں جانتا کہ انسان کس حالت میں ہے۔قرآن شریف میں تو آزمائش کا لفظ ہی نہیں آیا وہاں تو بلا کا لفظ ہے۔جس کے معنے انعام کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہماری یہ حالتیں موت اور زندگی کی اس واسطے بنائی ہیں کہ ہمیں انعام عطا کرے۔لیکن خدا تعالیٰ کے افعال کو قانونِ قدرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک شئے پر ایک محنت کرنی پڑتی ہے اور یہی امتحان ہے۔دانہ زمین میں چھوڑ ا جاتا ہے۔خس و خاشاک میں ملا دیا جاتا ہے۔پھر پانی سے اُسے اس مٹی میں تر کیا جاتا ہے۔تب وہ پھٹتا ہے اور اس میں سے نرم پیتیاں نکلتی ہیں۔جو ہوا، آندھی، دھوپ کی شدت اور قسما قسم کے حالات سے گزر کر آخر پھلتا ہے۔یہی امتحان ہے۔محنت کے بعد پھل ملتا ہے۔آریاؤں نے بھی جنم لینے کا مسئلہ ایجاد کیا ہے۔اور انجیل میں بھی لکھا ہے کہ ٹھوکروں کا آنا ضروری ہے۔امتحان کے معنے ہیں۔کسی سے محنت لینا اور اس پر مزدوری دینا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أُولبِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمُ (الحجرات: ۴) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقوی کے لئے ایک امتحان میں ڈالا۔جس سے وہ کامیاب ہوئے