حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 390
حقائق الفرقان ۳۹۰ سُوْرَةُ الْمُلْكِ - الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ - ترجمہ۔جس نے موت و زندگی اس لئے پیدا کی کہ ہم میں جو اچھے عمل کرے اسے انعام دے۔وہ عزیز ایا ایسا جو قصوروں کا بڑاڈھانپنے والا ہے۔خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة - خدا تعالیٰ نے موت اور زندگی بنائی۔اس دنیا کو چھوڑنا اور پھر ہمیشہ زندہ رہنا۔جس چیز کا تقاضا اور خواہش انسان میں ہے۔اس کا سامان بھی ضرور موجود ہو جاتا ہے۔انسان کی یہ فطری خواہشات سے ہے کہ وہ فنا نہ ہو۔تو اس کا سامان بھی اللہ تعالیٰ نے بنا دیا ہے۔مرنے کے بعد روح قائم رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے موت بھی بنائی ہے۔یہ بھی اس کی بڑی غریب نوازی ہے۔موت کے ساتھ دنیا کی سب تکالیف کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور موت کے بعد پھر ترقیات کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الرحمتہ فرمایا کرتے تھے کہ موت انسان کے واسطے اس طرح ضروری ہے جس طرح ہر اُس لڑکی کے واسطے جو کسی کے گھر میں پیدا ہو۔یہ ضروری ہے کہ اس کے ماں باپ بصد محبت اُسے پال پوس کر اور ہر طرح سے اس کی تعلیم و تربیت کر کے بالآخر ایک دن اسے اپنے گھر سے رخصت کر کے دوسرے گھر میں پہنچا آویں۔کیونکہ اس میں ایک جو ہر خدا تعالیٰ نے رکھا ہے۔جس کی شگفتگی سوائے اس کے نہیں ہو سکتی کہ وہ اس گھر کو چھوڑ کر اُس گھر میں چلی جاوے۔خواہ اس کے ماں باپ اور خویش و اقرباء اس کی جدائی کے صدمہ سے روئیں اور غم کھا ئیں اور آنسو بہائیں۔پرضرور ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اُسے رخصت کریں۔جس طرح وہ جدائی کی گھڑی سخت ہے اسی طرح موت کی ساعت بھی سخت ہے۔مگر اس کے بعد آرام و راحت کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس موت وحیات کے الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں قوموں کی روحانی موت اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل دوبارہ زندگی کی طرف بھی اشارہ ہے۔