حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 389
حقائق الفرقان ۳۸۹ سُوْرَةُ الْمُلْكِ سُوْرَةُ الْمُلْكِ مَدَنِيَّةٌ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ ملک کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن ورحیم ہے۔٢ - تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - ترجمہ۔بڑا بابرکت ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ملک ہے اور وہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔تفسیر۔تبرك - بہت برکت والا۔دائمی خیر والا۔پاک ذات ہے۔بابرکت والا ہے۔ملکہ ملک و دولت کا مالک ہے۔سب چیزوں پر قادر ہے۔کسی پارلیمنٹ کے ماتحت نہیں۔کسی مجلس شورای کے قوانین مانے پر مجبور نہیں۔ایسے مالک کی حکومت کا ماننا ہمارے واسطے ضروری ہے اور مفید ہے۔انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ طاقتور اور بڑے کی بات کو مان لیتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قدرت کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہے بڑے بڑے فلاسفر ایک ایک ذرے کی تحقیقات میں بھی حیران رہ جاتے ہیں۔اس سورہ شریف کو نہایت پر شوکت الفاظ سے شروع کیا گیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کی طاقت سلطنت عزت و عظمت و جبروت کا اظہار ہوتا ہے۔اس کے قبضہ قدرت میں سب حکومتیں ہیں۔یہ سورۃ مکی ہے۔ایسے وقت میں نازل ہوئی۔جب مسلمان تھوڑے اور کمزور تھے اور مشرکین کا زور تھا اس میں ایک پیشگوئی ہے۔کہ سلطنت اصل میں خدا کے ہاتھ میں ہے۔اور وہ اب کفار سے لے کر محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلطنت کا مالک بنائے گا۔دنیا داروں کی نگاہ میں یہ بات دُور از قیاس ہے۔مگر خدا تعالیٰ ہر بات پر قادر ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۴ ۵ مورخه ۱۶ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۷۰٬۲۶۹) بِيَدِهِ الْمُلْكُ۔انسان کی فطرت میں ہے کہ جو بڑا ہو قدرت والا ہو اس کی عزت کرتا ہے۔اللہ فرماتا ہے۔میں تمہارا مالک پھر عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِیر ہوں۔میری فرمانبرداری کرو۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۵)