حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 387
حقائق الفرقان ۳۸۷ سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ الہام کا بھی ذکر کرتا ہوں اور مجھے یاد نہیں کہ میں نے وہ الہام اپنے کسی رسالہ یا اشتہار میں شائع کیا ہے یا نہیں۔لیکن یہ یادر ہے کہ صد با لوگوں کو میں نے سنایا تھا۔اور میری یادداشت کے الہامات میں موجود ہے۔اور وہ اس زمانہ کا ہے۔جب کہ خدا نے مجھے پہلے مریم کا خطاب دیا اور پھر نفخ روح کا الہام کیا۔پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا تھا فَا جَاءَ هَا الْمَخَاضُ إِلى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِثْ قَبْلَ هَذَا وَ كُنتُ نَسيا منسيا۔یعنی پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔دردزہ کھجور کی طرف لے آئی ہے۔یعنی عوام الناس اور جاہلوں اور بے سمجھ علماء سے واسطہ پڑا جن کے پاس ایمان کا پھل نہ تھا۔جنہوں نے تکفیر و توہین کی اور گالیاں دیں اور ایک طوفان برپا کیا۔تب مریم نے کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتی اور میرا نام و نشان باقی نہ رہتا۔یہ اس شور کی طرف اشارہ ہے جو ابتدا میں مولویوں کی طرف سے بہ ہیئت مجموعی پڑا اور وہ اس دعوای کی برداشت نہ کر سکے۔اور مجھے ہر ایک حیلہ سے انہوں نے فنا کرنا چاہا۔تب اس وقت جو کرب اور قلق نا سمجھوں کا شور وغوغا دیکھ کر میرے دل پر گزرا۔اس کا اس جگہ خدا تعالیٰ نے نقشہ کھینچ دیا ہے۔اور اس کے متعلق اور بھی الہام تھے جیسا لقد جِئتِ شَيْئًا فَرِيَّا مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَ سَوْءٍ وَ مَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا اور پھر اس کے ساتھ کا الہام براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۲۱ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَ لِنَجْعَلَهُ ايَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَا كَانَ أَمْرً ا مَقْضِيًّا۔قَوْلَ الْحَقِ الَّذِي فِيهِ تَمْتَرُونَ۔دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۶ سطر ۱۲، ۱۳ ( ترجمہ ) اور لوگوں نے کہا کہ اے مریم تو نے یہ کیا مکر وہ اور قابل نفرین کام دکھلایا جو راستی سے دور ہے۔تیرا باپ اور تیری ماں تو ایسے نہ تھے مگر خدا ان تہمتوں سے اپنے بندہ کو بری کرے گا۔اور ہم اس کو لوگوں کے لئے ایک نشان بنادیں گے اور یہ بات ابتداء سے مقدر تھی اور ایسا ہی ہونا تھا۔یہ عیسی بن مریم ہے جس میں لوگ شک کر رہے ہیں۔یہی قول ہے۔یہ سب براہین احمدیہ کی عبارت ہے اور یہ الہام اصل میں آیات قرآنی ہیں جو حضرت عیسی اور ان کی ماں کے متعلق ہیں۔ان آیتوں میں جس عیسی کو لوگوں نے ناجائز پیدائش کا انسان قرار دیا ہے۔اسی کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس کو اپنا نشان بنائیں گے اور یہی عیسی ہے جس کی انتظار تھی اور الہامی عبارتوں میں