حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 378
حقائق الفرقان ۳۷۸ سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ میں یہی عبارت مرقوم ہے۔اب تمام ناظرین کی خدمت میں التماس ہے قرآن تمام عمرانات میں موجود ہے۔ایسی کوئی آیت تمام قرآن میں نہیں جس کا یہ ترجمہ ہو۔اس محرف قوم کے تعصبات کی حد نہیں۔جان بوجھ بے ایمانی پر کمر بستہ ہے اور کیوں نہ ہوں۔کفارے کے بیہودہ خیالی پلاؤ نے ان کو گناہ سے بے ڈر کر رکھا ہے۔پادریوں نے آخر تین اعتراض اس قصے پر جمائے۔جب قصہ ہی سرے سے غلط ٹھہرا تو یہ نتیجہ کیونکر قابل التفات ہوگا۔ماریہ قبطیہ جب ام ولد بی بی ٹھہریں تو زنا کیسا۔ہوش کی لو۔ماریہ قبطیہ جب ام ولد بی بی ٹھہریں تو قسم کیا اور قسم توڑنا کیا۔ماریہ قبطیہ جب ام ولد بی بی ٹھہریں تو ناشائستہ فعل کیا۔معترض کہتا ہے قسم توڑنے کی آیت نازل کرلی۔قسم توڑنے کی کوئی آیت سورہ تحریم میں نہیں اور نہ اُس کے بعد کوئی قسم توڑنے کی آیت اتری ہاں قسم کے توڑنے پر کفارہ دینے کا قرآن میں سورۃ مائدہ میں ذکر آیا ہے مگر یادر ہے سورہ مائدہ سورۂ تحریم سے پہلے اُتری ہے۔ہاں۔مجھے ضروری معلوم ہوتا ہے۔سورہ تحریم کی پہلی چند آیات کی تفسیر لکھ دوں۔ياَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللهُ لَكَ تَبْتَغِى مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَ اللهُ غَفُورٌ E رَّحِيمُ - قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ (التحريم : ٣٠٢) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بی بی زینب کے گھر میں شہد پیا۔عائشہ اور حفصہ نے زینب پر غیرت کی۔اور رسول خدا سے عرض کیا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بُو آتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں نے زینب کے گھر میں شہر پیا ہے۔اب پھر شہد نہ پیوں گا۔یہ بات اس لئے کہی کہ جب عورتوں کو شہد کی بُو لے اے نبی ! تو کیوں چھوڑے جو حلال کیا اللہ نے تجھ پر۔چاہتا ہے رضا مندی اپنی عورتوں کی اور اللہ بخشنے والا ہے۔مہربان ٹھہرادیا ہے اللہ نے تم کو کھول ڈالنا اپنی قسموں کا۔