حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 376
حقائق الفرقان سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ تھے۔اس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔بہر حال ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات ہے یا کوئی اور امر ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا۔جس کے سبب سے یہ آیت نازل ہوئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ترک میں مشکلات تھے۔اگر وہ قائم رہتا تو مسلمان اسے ایک سنت بنا لیتے۔فَرَضَ الله۔عام حکم ہے اللہ تعالیٰ نے سب پر فرض کر دیا ہے کہ ایسی قسموں پر قائم نہ رہا کریں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۳٬۲ مورخه ۹ نومبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲۶۶) لِمَ تُحَدِّمُ۔نبی کریم صلعم نے شہد کھا یا کسی بیوی نے کہا۔اس سے بو آتی ہے۔آپ نے اسے چھوڑ دیا۔حرام کے معنے ترک کے ہیں۔تشعیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۸۴) اس آیت کے حوالہ سے پادریوں کے سوالوں کے جواب میں حضرت خلیفہ المسیح اول نے فرمایا۔پادری کا سوال سورۂ تحریم کے پہلے رکوع کی تفسیر میں ہے محمد صاحب اپنی زوجہ حفصہ کے گھر گئے اور اُس کی لونڈی ماریہ قبطیہ سے اپنی زوجہ کی غیر حاضری میں ہمبستر ہوئے۔حفصہ مذکور یہ معلوم کر کے ناراض ہوگئی۔تب محمد صاحب نے اس شہرت بد کو بند کرنے کے لئے اور اپنی زوجہ حفصہ کو راضی کرنے کے لئے قسم کھائی اور کہا کہ میں پھر اس لونڈی سے ہمبستر نہ ہوں گا اور اپنی زوجہ حفصہ سے فرمایا کہ یہ بات تیرے پاس امانت ہے سو یہ ماجرا تو کسی پر ظاہر نہ کرنا۔جب محمد صاحب اُس کے گھر سے چلے گئے تو حفصہ نے یہ تمام احوال عائشہ پر ظاہر کر دیا اور پھر عائشہ سے جب محمد صاحب کو معلوم ہو گیا کہ یہ ماجرا چھپ نہ سکا تو قرآن میں بمقام مذکورۃ الصدر ایک آیت نازل کر لی کہ بیشک قسم کو توڑ کر لونڈی سے ہمبستر ہوتے رہیے۔اپنی عورتوں کی خوشنودی نہ چاہیے۔پس اس ماجرے سے تین گناہ محمد صاحب پر ثابت ہیں۔اول گناہ زنا کا کہ جس کے سبب محمد صاحب نے اپنی زوجہ حفصہ سے ملامت اُٹھائی اور بدنام ہو کر اس گناہ کے چھپانے کی کوشش کی اور آخر کار قسم اٹھا کر جان چھوڑانی پڑی۔دوم گناہ قسم پر قائم نہ رہنے کا کہ وہ پھر اسی لونڈی سے ہمبستر ہوتے رہے اور اسی سبب محمد یوں