حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 375
حقائق الفرقان ۳۷۵ سُورَةُ التَّحْرِيمِ سُوْرَةُ التَّحْرِيمِ مَدَنِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورۂ تحریم کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔ ، يايُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللَّهُ موليكُمْ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ - ترجمہ ۔ اے اللہ کے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تجھ پر حلال کیا ہے اپنی بیبیوں کی رضا چاہنے کے لئے اور اللہ غفور الرحیم ہے۔ اللہ نے تمہارے واسطے قسموں کا توڑنا ٹھہرا دیا ہے۔ اور اللہ تمہارا مولی ہے اور وہی بڑا جاننے والا حکمت والا ہے۔ تفسیر - يايُّهَا النَّبِی ۔ اس سورۃ کے شروع میں بھی پچھلی سورۃ کے شروع کی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کیا ہے۔ مگر حکم عام سب کے لئے ہے۔ لِمَ تُحَرِّم - تو کیوں حرام کرتا ہے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی حلال چیز کو چھوڑ دیا تھا۔ اس کا پتہ احادیث سے دو جگہ سے ملتا ہے۔ ان دو میں سے کسی ایک کو یہاں سمجھ لو۔ ا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہر پیا تھا۔ تو ایک بیوی نے کہا۔ آپ کے منہ سے بو آتی ہے۔ آپ نے خیال فرمایا کہ اگر شہد کا پینا کسی بیوی کو ناپسند ہے تو ہم نہیں پیتے۔ شہد کے پینے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ۲۔ دوسری بات حدیثوں میں یہ لکھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیبیوں سے ان کے کسی معاملہ پر ناراض ہو کر ان سے علیحدگی اختیار کی تھی اور چند روز تک ایک علیحدہ مکان میں رہے