حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 371 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 371

حقائق الفرقان ۳۷۱ سُورَةُ الطَّلَاقِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۔ اس رسول کی اطاعت اور اس کلام پر عمل کا نتیجہ یہ ہے کہ تم تاریکی سے نکل کر نور میں داخل ہو جاؤ گے۔ ظلمت پانچ قسم ہے۔ قسم ا۔ ظلمتِ فطرت ۔ انسان ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے ہی جاہل ہوتا ہے۔ ۲۔ ظلمت عادت بد عادات انسان کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں اور انبیاء علیہم السلام اسی واسطے آتے ہیں کہ عادات بد کو دنیا سے مٹا دیں ۔ بد مشاد ظلمت رسم - رسم و رواج سے بھی بڑے نقصان مترتب ہوتے ہیں ۔ بعض رسمیں اس وقت شروع ہوئیں جبکہ مسلمان امیر اور بادشاہ ہوئے تھے۔ لیکن اب حالت فقر میں بھی ان پر چلنا چاہتے ہیں ۔ ۴- ظلمت جہل ۔ جاہل و نادان ۔ بہ سبب جہالت کے اپنے آپ کو عجیب عجیب تکالیف میں مبتلا کر لیتے ہیں۔ ۵- ظلمت عدم استقلال ۔ بعض آدمی بڑے بڑے وعدے اور ارادے کرتے ہیں اور کام شروع کرتے ہیں مگر آخر نباہ نہیں سکتے ۔ جنت۔ فرمایا۔ وہ جنت جس کے نیچے ندیاں بہتی ہیں۔ ایمان اور عمل صالح سے مل سکتی ہے۔ اس سورہ شریف میں طلاق کے نہایت ضروری مسئلہ کو حل کیا ہے ۔ یہود طلاق کے معاملہ میں بہت سختی کرتے تھے ۔ ذرا ذراسی بات پر طلاق دیتے تھے۔ اور عیسائیوں کے درمیان سوائے زنا کے طلاق نہ ہو سکتی تھی ۔ افراط اور تفریط کو دور کیا گیا۔ اور ایک درمیانی راہ سکھلائی گئی ۔ اور عورتوں کے حقوق قائم کئے گئے ۔ جن سے پہلی قو میں نا آشنا ہیں بلکہ اس وقت یورپ کا قانون لندن تک خاموش ہے۔ اس سورہ شریف میں بار بار تقوای پر زور دیا گیا ہے۔ لوگ عورتوں کے معاملہ میں تقوی سے دُور جا پڑے ہیں ۔ بعض لوگ اپنی عورتوں کو نہ آباد کرتے ہیں اور نہ طلاق دیتے ہیں۔ بعض مارتے ہیں، تنگ کرتے ہیں۔ بداخلاقی سے پیش آتے ہیں۔ یہ بہت بڑی ظلم کی باتیں ہیں۔ صمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲ ۱۱ نمبر ۳٬۲ مورخه ۱۹ ور نومبر ۱۹۱۱ ء صفحه ۲۶۶٬۲۶۵)