حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 369
حقائق الفرقان ۳۶۹ سُوْرَةُ الطَّلَاقِ - وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبُنُهَا حِسَابًا شَدِيدَ الوَ عَنْ بُنَهَا عَذَابًا تُكْرًا - ترجمہ۔بہت سی بستیاں بڑھ چلیں یعنی اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے تو ہم نے ان سے سخت حساب لیا اور ان کو بُرے عذاب کا دکھ دیا۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔پہلی بستیوں کو دیکھو جنہوں نے خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی تھی۔ان پر کیسا عذاب آیا تھا۔تمام کتب الہیہ کو پڑھنے اور پہلی قوموں کے حالات کے مطالعہ سے انسان اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ کفر و شرک اور انبیاء علیہم السلام کو نہ ماننا ضر ور ایک ایسی چیز ہے جس کا نتیجہ نہایت ہی خطرناک ہوتا ہے لیکن شوخی اور بے باکی اور شرارت بہت ہی بری شے ہے اور اس کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کو شوخ آدمی کبھی پسند نہیں۔اور ہر ایک شہر میں کوئی نہ کوئی ایسا نظارہ ضرور ہوتا ہے۔اور نہیں تو کسی بڑے امیر کبیر کے مکانات کے کھنڈرات ہی ہوتے ہیں۔لاہور میں شاہی قلعہ دیکھنے والوں کو وعظ کر رہا ہے ہر ایک بستی اور گاؤں کے نزدیک کوئی نہ کوئی کھیڑا ضرور ہوتا ہے۔دہلی کے حالات پر غور کرو تغلق آباد کیسا آباد کیا گیا تھا۔اس کی چھتوں پر لکڑی نہ ڈالی گئی تھی مگر اب کیسا بے نشان پڑا ہے۔یہاں بھی قریب ہی ایک تغل والا گاؤں موجود ہے جہاں کہ تغل لوگ رہتے تھے لکھنو کے خرابوں اور ویرانوں پر غور کرو اور ان سے عبرت حاصل کرو۔ایک صوفی کا قول ہے کہ انسان کی کیا ہستی ہے۔بقطر 6 آبے موجود و به خروج بادے معدوم ہے پھر حیرت و تعجب کی بات ہے کہ انسان کس ہستی پر غرور کرتا ہے۔موت کے سامنے کوئی طاقت نہیں چلتی۔دیکھو سکندر جب تمام فتوحات کر کے بابل میں پہنچا تو موت آ گئی اور کچھ پیش نہ گئی۔بغداد میں اس قدر مخلوق تھی کہ شہر کی حفاظت کے واسطے پانچ لاکھ فوج یا کتنی تھی۔مگر جب خدا کا عذاب آیا تو اٹھارہ لاکھ اس معرکہ میں قتل کیا گیا۔جن لوگوں سے ملک پر دعوے دار ہونے کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔کہتے ہیں ان کے ایک ہزار آدمیوں کی قطار کھڑی کر کے سب دیوار میں چن دیئے گئے۔غرض خداوند تعالیٰ کا لے قطرہ آپ اس کی زندگی ہے اور ہوا کے جھونکے سے فنا ہو جاتا ہے۔