حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 366 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 366

حقائق الفرقان ۳۶۶ سُوْرَةُ الطَّلَاقِ اور مت نکالوان کے گھروں سے اُن کو۔اور وہ بھی نہ نکلیں مگر جو کریں صریح بے حیائی۔( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل۔صفحہ ۴۹ حاشیہ ) ۴،۳۔فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ روود b بِمَعْرُوفِ وَ اَشْهِدُوا ذَوَى عَدْلٍ مِنْكُمْ وَ اَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلهِ ذَلِكُم يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا - ترجمہ۔پس جب وہ اپنی عدت کی مدت پوری کر چکیں تو ان کو نیک نیتی سے رکھ لو یا نیک سلوکی کے ساتھ جدا کر دو اور گواہ کر لو دو انصاف والے گواہ اور اللہ کے واسطے گواہی پر قائم رہو رہو۔اس بات کی اُس کو نصیحت کی جاتی ہے جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور روز آخرت پر اور جو شخص ڈرتا ہے اللہ سے تو اللہ پیدا کر دے گا اس کے لئے کوئی راہ نجات۔اور اس کو وہاں سے رزق پہنچائے گا جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہو۔جو اللہ پر بھروسہ رکھے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے۔بے شک اللہ اپنا کام پورا فرما لیتا ہے۔تحقیق کہ اللہ نے ٹھہرا رکھا ہے ہر ایک چیز کا اندازہ۔تفسیر۔پھر جب پہنچیں اپنے وعدے کو تو ر کھلوان کو دستور سے یا چھوڑ دو ان کو دستور سے۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۴۸ حاشیہ) بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ۔جب عدت گزرنے کو ہو۔تشخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۴) تقوای عظیم الشان نعمت اور فضل ہے جسے ملے۔انسان اپنی ضروریات زندگی میں کیسا مضطرب اور بے قرار ہوتا ہے۔خصوصا رزق کے معاملہ میں۔لیکن متقی ایسی جگہ سے رزق پاتا ہے کہ کسی کو تو کیا معلوم ہوتا ہے۔خود اس کے بھی وہم گمان میں نہیں ہوتا۔يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ۔پھر انسان بسا اوقات بہت قسم کی تنگیوں میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ متقی کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے۔جیسے فرمایا وَ مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا - انسان کی سعادت اور نجات کا انحصار