حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 362
حقائق الفرقان ۳۶۲ سُوْرَةُ الْمُنْفِقُونَ کر سکتا۔مدینہ طیبہ میں ایک رأس المنافقین کا ارادہ ہوا۔لَئِنْ جَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ۔۔۔الآية اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ایک ذلیل گروہ کو معزز گروہ نکال دیگا۔جناب الہی نے فرمایا وَلِلهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوله۔۔۔الآية معزز تو اللہ ہے اور اُس کا رسول اور اس کی جماعت۔منافقوں کو یہ کبھی سمجھ نہیں آتی۔آخر ایام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک بھی منافق نہ رہا۔بلکہ یہ فرمایا۔مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أَخِذُوا وَقُتِلُوا تَقْتِيلا - (الاحزاب ::۱۲) اللہ تعالیٰ نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ تیری مجاورت میں بھی نہ رہیں گے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مورخه ۱۰ / فروری ۱۹۰۱ صفحه ۶) عزت اللہ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مومنوں کے لئے۔منافقین ایسی باتوں سے بے علم ہیں۔پس مومن اور پھر ذلیل یہ غیر ممکن ہے۔مومن تو اسی دنیا میں بہشت پالیتا ہے۔صحابہؓ کرام نے جب جاہلیت کے عقائد فاسدہ سے توبہ کی اور اسلام کے پاک عقائد پاک اعمال اختیار کئے تو سب سے پہلی جنت ان کے لئے یہی تھی۔پھر جب مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو یہ بھی ان کے لئے جنت ہی تھی۔پھر جب ملک پر ملک فتح کئے تو ایک دنیا کے فاتح کہلائے تو یہ بھی ان کے لئے جنت تھی۔پھر جب دنیا سے کوچ کرنے پر پہلی منزل قبر ( قبر وہ ہے جہاں انسان اپنے اعمال کے بدلہ میں بعد الموت رہتا ہے ) بھی رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ہوگئی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیبیاں جنگ میں اپنے ساتھ رکھتے۔دراصل آپ ان جاہلوں کو یہ سمجھاتے تھے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ مجھے ذلیل نہیں کرتا۔ورنہ جنگ کیسے خطرہ کا موقع ہے اور دستور کے لحاظ سے بیبیوں کا قید میں پڑ جانا یا اور اور طرح ذلیل ہونا ممکن ہے۔مگر اللہ تعالیٰ میرا حامی و ناصر ہے۔وہ مومن کے اعداء کو کوئی ایسا موقع نہیں دیتا۔تشخیذ الا ذہان جلدے نمبر ۴۔ماہ اپریل ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۷۵) اے (قتل کئے گئے لعنتی جہاں پائے جائیں پکڑے جائیں اور خوب قتل کئے جائیں۔