حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 358
حقائق الفرقان ۳۵۸ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ کوشش کرتا ہے۔سفر کر کے، خرچ کر کے فتوی تیار کرتا ہے کہ یہ کافر ہے اور زور لگا کر کہتا ہے کہ میں اس کو گراؤں گا مگر اس کے سارے اخراجات ، ساری محنتیں اور کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔خود گرتا ہے اور جس کو گرانے کا ارادہ کرتا تھا وہ بلند کیا جاتا ہے۔جس قدر کوشش اس کے معدوم کرنے کی کی جاتی ہے اسی قدر وہ اور بھی ترقی پاتا اور بڑھتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے ارادے ہیں۔ان کو کوئی بدل نہیں سکتا اس کے مخالف ثمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً (الانفال: ۳۷) کے مصداق ہو جاتے ہیں۔پس یا درکھو۔اس وقت ضرورت ہے۔ایسے امام کی جو حق کا سنانے والا سمجھا نیوالا اور پھر تزکیہ کرنے والا ہو۔بڑے ہی بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس نور سے حصہ نہیں پاتے۔اللہ تعالیٰ مجھے کو اور ت کو تو فیق دے کہ ہم جنہوں نے اس نور سے حصہ لینے کی سعی کی اور اس چشمہ کے پاس پہنچے ہیں۔پوری روشنی حاصل کر سکیں۔اور سیراب ہوں اور یہ ساری باتیں حاصل ہوتی ہیں جب بصیرت ، معرفت اور عقل عطا ہو اور یہ خدا ہی کے فضل سے ملتی ہیں۔پس جب کسی کو صادق کا پتہ لگ جائے تو ساری تجارتوں اور بیع وشراء کو چھوڑ کر اس کے پاس پہنچ جانا چاہیے۔اور كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبہ: ۱۱۹) پر عمل کرنا ضروری سمجھا جاوے۔بعض لوگ جو یہاں آتے ہیں اور رہتے ہیں ان کو ایسی مشکلات پیش آتی ہیں جو ان کی اپنی پیدا کردہ مشکلات سمجھنی چاہیں۔مثلاً کوئی کہتا ہے کہ مجھے چار پائی نہیں ملی یا روٹی کے ساتھ دال ملی۔میں ایسی باتوں کو جب سنتا ہوں تو اگر چہ مجھے ان لوگوں پر افسوس ہوتا ہے۔جوان خدمات کے لئے مقرر ہیں۔مگر ان سے زیادہ افسوس ان پر ہوتا ہے جو ایسی شکایتیں کرتے ہیں۔میں ان سے پوچھوں گا کہ کیا وہ اس قدر تکالیف سفر کی برداشت کر کے روٹی یا چار پائی کے لئے آتے ہیں یا ان کا مقصود کچھ اور ہوتا ہے؟ میرے ایک پیر شاہ عبد الغنی صاحب رحمتہ اللہ علیہ مدینہ میں رہا کرتے تھے۔ایک شخص ہجرت کر کے مدینہ میں آیا۔پھر اُس نے اُن سے کہا کہ میں یہاں نہیں رہتا۔کیونکہ لوگ شرارتی ہیں۔لے اور وہ ہو گا اُن پر حسرت اور افسوس۔اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔