حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 357
حقائق الفرقان ۳۵۷ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ پہنچے۔مگر اس میں بھید یہی ہے کہ انصار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑا نہیں۔ان کی نصرت کے لئے خدا نے ان کو بہت کچھ دیا۔مگر مہاجر جنہوں نے اللہ کے لئے ہاں محض اللہ ہی کے لئے اپنے گھر بار بیوی بچے اور رشتہ دار تک چھوڑ دیئے تھے۔اور اپنے منافع اور تجارتوں پر پانی پھیر دیا تھا۔وہ خلافت کی مسند پر بیٹھے۔میں ثقیفہ کی بحث پڑھتا تھا اور مِنْكُمْ آمِيرُ وَمِنَّا آمِيرٌ پر میں نے غور کی ہے۔مجھے خدا نے اس مسئلہ خلافت میں یہی سمجھایا ہے کہ مہاجرین نے چونکہ اپنے گھر بار تعلقات چھوڑے تھے ان کو ہی اس مسند پر اول جگہ مانی ضرور تھی۔اللہ تعالیٰ کے لئے جب کوئی کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ضائع نہیں کرتا پس ایسے عذر بے فائدہ اور بیہودہ ہیں۔اس وقت دنیا خطر ناک ابتلا میں پھنسی ہوئی ہے۔پہلی بلا جہالت کی ہے۔تدبر سے کتاب اللہ کو نہیں پڑھتے اور نہیں سوچتے۔جب تدبر ہی نہ ہو۔تلاوت ہی نہ ہو تو اس پر عمل کی تحریک کیسے پیدا ہو۔کتاب اللہ کو چھوڑ دیا گیا ہے اور اس کی جگہ بہت بڑا وقت قصوں ، کہانیوں اور اور لغویات میں بسر کیا جاتا ہے۔دوسرا نقص یہ ہے کہ فسق و فجور بڑھ گیا ہوا ہے۔بد معاملگی ہے۔جہالت ہے۔گندگی اور ناپاکی کو مقدم کر لیا گیا ہے۔پھر اس کے ساتھ کبر ہے۔وہ کبر کہ یہ برداشت نہیں رہی کہ کوئی نصیحت کرے تو صبر کے ساتھ اس نصیحت کو سن لیں اور اس کے ساتھ اور مصیبت یہ ہے کہ اپنے دکھ سے نا آشنا ہیں۔مرض کے حالات سے ناواقف ہیں۔اسے محسوس نہیں کرتے۔طبیب کی تشخیص پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور اسے ہی مجنون ٹھہراتے ہیں۔غرض یاد رکھو کہ اب زمانہ بہت نازک آ گیا ہے۔ایک راست باز دنیا میں آیا ہے۔جس کے لئے آسمان نے گواہی دی۔اس وقت کہ جب خدا ایک بچھڑا سمجھا گیا تھا۔خدا تعالیٰ نے اپنے کلام سے بتایا کہ وہ زندہ اور متکلم خدا ہے اور اُس نے اپنے برگزیدہ بندہ کو بھیج کر حجت پوری کی مگر پھر بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کی مخالفت کی جاتی اور اس کے خلاف منصوبہ بازیاں ہوتی ہیں۔مگر اس کی کچھ پرواہ نہیں۔یہ لوگ آخر خائب و خاسر ہونے والے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں۔مخالف منصوبے بناتا ہے۔-