حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 356 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 356

حقائق الفرقان ۳۵۶ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ اے خیانت بر تو رحمت از تو گنجے یافتم اے دیانت بر تو لعنت از تو رنجے یافتم لے ایسے شوخ دیده خود ملعون ہیں جو دیانت پر لعنت بھیجتے ہیں۔پس خدا کے لئے ان ذریعوں اور راستوں کو چھوڑو جو بظاہر کیسے ہی آرام دہ نظر آتے ہوں لیکن ان کے اندر خدا کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے۔میں نے بسا اوقات نصیحت کی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ پر عمل کرنے کے واسطے ضروری ہے۔یہاں آکر رہو۔بعض نے جواب دیا ہے کہ تجارت یا ملازمت کے کاموں سے فرصت نہیں ہوتی لیکن میں ان کو آج یہ سناتا ہوں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ تمام تجارتوں کو چھوڑ کر ذکر اللہ کی طرف آ جاؤ۔وہ اس بات کا کیا جواب دے سکتے ہیں؟ کیا ہم گنبہ قبیلہ والے نہیں؟ کیا ہماری ضروریات اور ہمارے اخراجات نہیں ہیں؟ کیا ہم کو دنیوی عزت یا وجاہت بری لگتی ہے؟ پھر وہ کیا چیز ہے جو ہم کو کھینچ کر یہاں لے آئی ؟ میں شیخی کے لئے نہیں کہتا بلکہ تحدیث بالنعمہ کے طور پر کہتا ہوں کہ میں اگر شہر میں رہوں تو شاید بہت روپیہ کما سکوں لیکن میں کیوں ان ساری آمدنیوں پر قادیان کے رہنے کو ترجیح دیتا ہوں؟ اس کا مختصر جواب میں یہی دوں گا کہ میں نے یہاں وہ دولت پائی ہے جو غیر فانی ہے۔جس کو چور اور قزاق نہیں لے جاسکتا۔مجھے وہ ملا ہے جو تیرہ سو برس کے اندر آرزو کرنے والوں کو نہیں ملا۔پھر ایسی بے بہا دولت کو چھوڑ کر میں چند روزہ دنیا کے لئے مارا مارا پھروں۔میں سیچ کہتا ہوں کہ اگر اب کوئی مجھے ایک لاکھ کیا ایک کروڑ روپیہ یومیہ بھی دے اور قادیان سے باہر رکھنا چاہے۔میں نہیں رہ سکتا۔ہاں امام علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں پھر خواہ مجھے ایک کوڑی بھی نہ ملے پس میری دولت میر امال ، میری ضرورتیں اسی امام کے اتباع تک ہیں اور دوسری ساری ضرورتوں کو اس ایک وجود پر قربان کرتا ہوں۔میرے دل میں بارہا یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ صحابہ کو جو مہاجر تھے کیوں خلافت ملی۔اور مدینہ والے صحابہ کو جو انصار تھے اس سے حصہ نہیں ملا۔بظاہر یہ عجیب بات ہے کہ انصار کی جماعت نے ایسے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جب آپ مکہ سے تکالیف برداشت کرتے ہوئے ا اے خیانت! تجھ پر رحمت کہ تجھ سے میں نے ایک خزانہ پایا۔اے دیانت ! تجھ پر لعنت کہ تجھ سے میں نے رنج اور تکلیف پائی۔