حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 355
حقائق الفرقان ۳۵۵ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ١٢ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهُوَا إِنْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَابِمَا قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِ وَاللهُ خَيْرُ الرُّزِقِينَ - ترجمہ۔اور جب تجارت کے سامان مل جاتے ہیں یا کھیل تماشہ کا وقت پاتے ہیں۔وہ تجھے چھوڑ کر چل دیتے ہیں۔ان کو کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ ساری تجارتوں اور کھیل تماشوں سے بہتر ہے۔اور اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔تفسیر۔یہ حالت انسان کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ خدا تعالیٰ پر سچا اور کامل یقین نہیں رکھتا۔اور اس کو رازق نہیں سمجھتا۔یوں ماننے سے کیا ہوتا ہے۔جب کامل ایمان ہوتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔بعض لڑکوں سے میں نے پوچھا ہے کہ تم جو گھر جاتے ہو۔کیوں؟ کیا لھو کے واسطے۔اگر یہ غرض ہے تو پھر یہ خدا کے اس ارشاد کے نیچے ہے۔لھوا اور تجارةً کو گویا خدا تعالیٰ پر مقدم کرتا ہے۔اس سے بچنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کو خیر الرازقین یقین کرو۔اور مت خیال کرو کہ صادق کی صحبت میں رہنے سے کوئی نقصان ہوگا کبھی ایسی جرات کرنے کی کوشش نہ کرو کہ اپنی ذاتی اغراض کو مقدم کرلو۔خدا کے لئے جو کچھ انسان چھوڑتا ہے اُس سے کہیں بڑھ کر پالیتا ہے۔تم جانتے ہو۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا چھوڑا تھا اور پھر کیا پایا۔صحابہ نے کیا چھوڑا ہوگا۔اس کے بدلہ میں کتنے گنے زیادہ خدا نے ان کو دیا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک کیا ہے جو نہیں ہے لِله خَزَائِنُ السّمواتِ وَالْأَرْضِ تجارتوں میں خسارہ کا ہوجانا یقینی اور کاروبار میں تباہیوں کا واقع ہو جانا قرین قیاس ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کے لئے کسی چیز کو چھوڑ کر کبھی بھی انسان خسارہ نہیں اُٹھا سکتا۔(الحکم جلد نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۸) جلدے غرض اللہ تعالیٰ کے پاس جو چیز ہے وہ ساری تجارتوں سے بہتر ہے۔وہ خیر الرازقین ہے۔میں نے بہت سے ایسے بے باک دیکھے ہیں جو کہا کرتے ہیں