حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 350
حقائق الفرقان میں ہی نہ ہوں ۔ ۳۵۰ وو سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ لا إله إلا الله کے کہنے میں ہم سب یہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود محبوب اور مطاع نہ ہوگا ۔ اور کوئی غرض و مقصد اللہ تعالیٰ کے اس راہ میں روک نہ ہو گی ۔ اس امام نے اس مطلب کو ایک اور رنگ میں ادا کیا ہے کہ ہم سے یہ اقرار لیتا ہے۔ دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔ اب اس اقرار کو مد نظر رکھ کر اپنے عمل درآمد کو سوچ لو۔ کہ کیا اللہ تعالیٰ کے احکام اور اوامر و نواہی مقدم ہیں یا دنیا کے اغراض و مطالب ۔ اس اقرار کا منشاء یہ ہے کہ ساری جزئیں اللہ کے خوف کی اور حصولِ مطالب کی امید کی اللہ تعالیٰ کے سوا نہ رہیں یعنی خوف ہو تو اسی سے ۔ امید ہو تو اسی سے ۔ وہی معبود ہو ۔ اسی کی عظمت و جبروت کا خوف ہو ۔ جس سے اطاعت کا جوش پیدا ہو ۔ ایسی اطاعت اور عبادت روح میں ایک تدلل اور انکساری پیدا کرے گی ۔ جس سے سرور اور لذت پیدا ہو گی ۔ اور عملی زندگی کو قوت ملے لگی ۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی صفات پر کامل ایمان نہ ہو تو اس ایمان میں عملی قوت پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ۔ وہ اس کھائے ہوئے دانہ کی طرح ہوتا ہے جس میں نشو و نما پانے کی خاصیت باقی نہیں رہی ۔ غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم نماز کے لئے جمعہ کے دن بلائے جاؤ تو بیچ کو چھوڑ کر ذکر اللہ کی طرف آجاؤ۔ عام جمعوں میں چھوٹی چھوٹی بیچ ہے۔ لیکن مسیح موعود کا وقت چونکہ عظیم الشان جمعہ ہے۔ اس لئے اس وقت دجال کا فتنہ بہت بڑی بیچ ہے اس لئے فرمایا کہ اس کو چھوڑو اور ذکر اللہ کی طرف آجاؤ۔ نتیجہ اس کا کیا ہے؟ رود ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تم کو کچھ علم ہے تو یا درکھو کہ یہ تمہارے لئے مفید ہے۔ اس میں خیر و برکت ہے۔ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ جس امر کو خیر و برکت کا موجب قرار دیتا ہے۔ اس کو ظنی یا وہمی خیال کرنا کفر ہے۔ انسان چونکہ عواقب الامور اور نتائج کا علم نہیں رکھتا۔ اس لئے وہ بعض اوقات اپنی کمزوری علم اور کمئی معرفت کی وجہ سے گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مامور کی صحبت میں رہنا یا اس کے پاس جانا ی وجہ سے میرا اخراجات کو چاہتا ہے یا بعض تجارتی کاموں میں اس سے حرج واقع ہوگا ۔ دوکان بند کرنی پڑے گی۔