حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 349
حقائق الفرقان ۳۴۹ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ خدا کے اس وعدہ کا وقت آیا انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: ١٠) اس کی حفاظت کی ضرورت ہے اور چونکہ وہ آسمان پر اُٹھ گیا ہے۔گویا اس کے دوسرے نزول کی ضرورت ہے۔تب ہی تو آخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ والی قوم تعلیم اور ہدایت حاصل کرے۔اس لئے آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ والی قوم کا معلم ضرور ہے کہ وہی احمد ہو ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو مکہ میں مبعوث ہوا تھا۔پس اس وقت وہی احمد اپنے بروزی رنگ میں آیا ہے۔دیکھنے والے دیکھتے ہیں۔جن کو توفیق نہیں ملی وہ نہیں دیکھ سکتے۔قرآن شریف سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام ذکر بھی ہے۔اور جیسے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ویسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کا بھی وعدہ فرما یا تھا اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔(المائدہ : ۲۸ ) اور عجیب بات ہے کہ یہی وعدہ حضرت مسیح موعود سے بھی ہوا ہے۔ان ساری آیتوں پر غور کرنے سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ صحیح ہے کہ ذکر سے مراد اس آیت میں جمعہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بعثت ہے جو بروزی رنگ میں مسیح موعود کی صورت میں ہوئی۔الحکم جلدے نمبر ۶ مورخه ۱۴ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۴٬۳) یہ وہ ذکر ہے جو آخری خلیفہ کہلاتا ہے۔یہ وہ راہ ہے جو صراط مستقیم ہے۔پس اس طرف آجاؤ اور اس وقت دجالی تحریکوں کی طرف نہ جاؤ۔اس صراط مستقیم کی طرف آنے یا اُس ذکر کی طرف متوجہ ہونے کا اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ مان لیا کہ وہ حق ہے اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔یہ ایمان زندہ ایمان نہیں کہلاتا جب تک اس میں عمل کی روح نہ ہو۔یہ بالکل سچ ہے کہ ایمان بدوں عمل کے مردہ ہے۔میں نے جس وقت حضرت امام کے منہ سے یہ سنا کہ تم میں سے بہت ہیں جو اس چشمہ پر پہنچ گئے ہیں جو زندگی کا چشمہ ہے مگر ابھی پانی نہیں پیا۔ہاں منہ رکھ دیا ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جس وقت سے میں نے یہ سنا ہے۔میں بہت ہی ترساں ہوں اور استغفار پڑھتا رہا ہوں کہ خدا نہ کرے۔کہیں وہ ے بے شک ہمیں نے اتارا ہے قرآن اور ہمیں اس کے حافظ ہیں۔۲ے اللہ تیری حفاظت کرے گا لوگوں سے۔