حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 348
حقائق الفرقان ۳۴۸ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ تکمیل اشاعت ہدایت۔تکمیل ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہو چکی اور تکمیل اشاعت ہدایت کا یہ وقت آیا ہے۔یعنی یہ مسیح موعود کے وقت مقدر تھی۔چنانچہ اس وقت دیکھتے ہو اشاعت کے کس قدر سامان اور اسباب پیدا ہو گئے ہیں۔اور پھر جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک جمعہ کے ترک سے ۴ / ا حصہ دل کا سیاہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح پر یہ بھی مسلم بات ہے کہ خدا کی وحی کے انکار سے سلپ ایمان ہو جاتا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کے مامور ومرسل مسیح موعود کے انکار سے سلپ ایمان ہونا یقینی ٹھہرا اور پھر جمعہ میں ایک وقت ایسا ہے جو قبولیت دعا کا ہے۔اسی طرح پر جب خدا تعالیٰ کا کوئی برگزیدہ بندہ اصلاح خلق کے لئے آتا ہے تو وہ لیلتہ القدر کا وقت ہوتا ہے۔جس کی بابت قرآن شریف میں آچکا ہے کہ وہ خیر مِنْ الْفِ شَهْرٍ ہوتی ہے۔ان سارے امور کو اکٹھا کرو اور پھر سوچو اور دیکھو کہ کیا اب یہ وہ وقت نہیں ہے؟ میں ایمان سے کہتا ہوں اور پھر اس پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ یہ وہی وقت ہے یہ وہی جمعہ ہے۔دجال بھی موجود ہے اور مسیح موعود بھی ہے۔فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ دو وقت ایسے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُمیوں میں اپنے رسول کو بھیجا ہے۔ایک وہ وقت تھا جب گل دنیا پر تاریکی چھائی ہوئی تھی خصوصاً عرب میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اور ابراہیم واسماعیل کی دعا کے نتیجہ میں ان میں رسول مبعوث کیا اور اب آپ آئے۔تیرہ سو سال گزرنے کے بعد جب اسلام کی حالت پر امیت غالب ہو گئی اور اخلاقی اور ایمانی اور عملی قوتیں کمزور اور مردہ ہو گئیں اور قرآن شریف کی طرف بالکل توجہ نہ رہی بلکہ وہ وقت آگیا کہ رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: ۳۱) کا مصداق ہے اور قرآن آسمان پر اُٹھ گیا۔اور ہر طرف سے اسلام اور قرآن پر حملے ہونے لگے تو لے اے میرے رب ! بے شک میری قوم نے اس قرآن شریف کو چھوڑ دیا تھا۔